اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازعہ پر درج قتل کے مقدمہ میں 15 سال بعد ملزم نعیم ارشد عرف پپو کو بری کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد …
سپریم کورٹ نے 2500 روپے کے تنازعہ پر قتل کیس میں ملزم کو 15 سال بعد بری کر دیا، فوری رہائی کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازعہ پر درج قتل کے مقدمہ میں 15 سال بعد ملزم نعیم ارشد عرف پپو کو بری کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد عرف پپو کو قتل کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اپیل کی سماعت کے بعد ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ کی موقع پر موجودگی مشکوک ہے جبکہ واقعہ کے وقت مکمل اندھیرا تھا اور کسی قسم کے روشنی کے ذرائع کا ذکر بھی ریکارڈ پر موجود نہیں۔
عدالت کے مطابق وقوعہ بیان کردہ انداز میں پیش نہیں آیا بلکہ پورا معاملہ پراسرار دکھائی دیتا ہے۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ تفتیشی افسر کے مطابق فائر نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شریک ملزم شہباز علی نے کیا تھا۔ شہباز علی سے برآمد پستول سے جائے وقوعہ سے ملنے والا خالی خول بھی میچ ہوا تھا تاہم شہباز علی کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی ہے۔سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ شہباز علی کی بریت کے خلاف نہ تو ریاست نے کوئی اپیل دائر کی اور نہ ہی شکایت کنندہ کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا جو استغاثہ کے مقدمہ کو مزید کمزور کرتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی آبزرو کیا کہ اہم گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے خلاف منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق مقتول محمد انور کو مارچ 2014 میں کپڑے کی دکان پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وقوعہ سے دو روز قبل کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازعہ پر جھگڑا ہوا تھا۔کیس کا فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سنایا۔








