چیف جسٹس آف پاکستان کی سپریم کورٹ کے وکلاء اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے کیلئے اہم ہدایات جاری

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان کی سپریم کورٹ کے وکلاء (ایڈووکیٹس سپریم کورٹ)، ایڈووکیٹس آن ریکارڈ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات کے بعد عدالتی امور میں بہتری، کیس مینجمنٹ کو موثر بنانے اور وکلاء و سائلین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق فیصلہ …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان کی سپریم کورٹ کے وکلاء (ایڈووکیٹس سپریم کورٹ)، ایڈووکیٹس آن ریکارڈ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات کے بعد عدالتی امور میں بہتری، کیس مینجمنٹ کو موثر بنانے اور وکلاء و سائلین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ ماہانہ کاز لسٹ پیشگی جاری کی جائے گی تاکہ مقدمات کی موثر تیاری ممکن ہو سکے جبکہ ہفتہ وار کاز لسٹ بدھ کے روز جاری کی جائے گی تاہم بینچز کی عدم دستیابی یا روسٹر میں تبدیلی کی صورت میں اس میں ردوبدل کیا جا سکے گا۔مقدمات کی ڈی لسٹنگ کے حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ عموماً مقررہ تاریخ سے کم از کم اڑتالیس گھنٹے قبل آگاہی دی جائے جبکہ وکلاء کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ بروقت فریقین کو مطلع کریں۔

اگر کسی مقدمے کی ڈی لسٹنگ چوبیس گھنٹوں کے اندر ہوتی ہے تو جمعہ کے علاوہ دیگر دنوں میں ایسے مقدمات کو دستیاب بینچز کے سامنے دوبارہ مقرر یا تقسیم کیا جائے گا اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پالیسی کے مطابق اگلے ہفتے کے لیے مقرر کیا جائے گا۔ابتدائی سماعت (ارلی ہیئرنگ) کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسے فوجداری مقدمات جن میں ملزمان اپنی سزا کا بڑا حصہ کاٹ چکے ہوں، اسی سال یا اس سے زائد عمر کے قیدیوں کے مقدمات اور وہ مقدمات جو سمجھوتے کے ذریعے نمٹا دیئے گئے ہوں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر ابتدائی سماعت کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔

عدالتی فیصلوں اور احکامات پر دستخط کے فوری بعد انہیں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے اور متعلقہ وکلاء کو ای میل کے ذریعے ارسال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جس پر متعلقہ افسران کو سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔دیر سے سماعت کے نظام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت فریقین کے وکلاء کی مشترکہ درخواست پر چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کو دوپہر کے کھانے کے بعد متعلقہ بینچ کے سامنے مقرر کیا جا سکے گا۔

ایسے مقدمات میں کسی بھی بنیاد پر التواء کی اجازت نہیں دی جائے گی۔برانچ رجسٹریز میں بینچز کی نامزدگی وہاں زیر التواء مقدمات کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھی جائے گی۔طریقہ کار سے متعلق شکایات کے ازالے اور سہولت کاری کے لیے وکلاء اور سائلین پبلک فسیلیٹیشن سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں جہاں رجسٹرار سپریم کورٹ پاکستان اور نامزد افسران روزانہ صبح 11 بجے سے 11 بج کر 15 منٹ تک دستیاب ہوں گے۔

تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان فیصلوں پر مکمل طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت، موثریت اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جا سکے۔