حیدرآباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ثقافت اور قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد الرحمن گیلانی نے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری و ڈائریکٹر سندھیالوجی ڈاکٹر فیاض لطیف سے ملاقات کے بعد میوزیم، لائبریری اور ادارے کے دیگر شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں محفوظ تاریخی نوادرات، ثقافتی و تہذیبی ورثے، نامور شخصیات کے قائم …
وفاقی وزیر ثقافت اورنگزیب خان کھچی کا انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کا دورہ، تاریخی نوادرات، ثقافتی ورثے اور 600 سالہ قدیم قرآنِ پاک کے نسخے پر اظہارِ تحسین

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ثقافت اور قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد الرحمن گیلانی نے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری و ڈائریکٹر سندھیالوجی ڈاکٹر فیاض لطیف سے ملاقات کے بعد میوزیم، لائبریری اور ادارے کے دیگر شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں محفوظ تاریخی نوادرات، ثقافتی و تہذیبی ورثے، نامور شخصیات کے قائم کردہ کارنرز اور علمی خزانے کو نہایت دلچسپی سے دیکھا اور ان کی بہترین ترتیب اور دیکھ بھال کی تعریف کی۔
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سندھیالوجی نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کا ایک نہایت اہم علمی، ادبی، تاریخی و ثقافتی ادارہ ہے، جہاں آ کر انہیں بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اس ادارے میں نایاب تاریخی، ثقافتی و ادبی ورثے کو بہترین انداز میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہاں میوزیم میں تاریخی، تہذیبی اور لوک ورثے کو سلیقے سے یکجا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ لائبریری میں قرآن پاک کے 600 سالہ قدیم نسخے کے ساتھ ساتھ دیگر تاریخی اور نایاب کتابی و قلمی مواد موجود ہے، جسے دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے تمام ثقافتی اداروں سے روابط قائم کر کے انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا اور ان کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھیالوجی جیسے ادارے ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، جن کی ترقی اور ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی وزارت کی جانب سے ادارے کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کی کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری اور ڈائریکٹر سندھیالوجی ڈاکٹر فیاض لطیف کے ساتھ مل کر تفصیلی لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد اسلام آباد میں قومی سطح کی علمی، ادبی اور ثقافتی کانفرنس منعقد کر رہے ہیں، جس میں سندھیالوجی کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم کوشش کریں گے کہ سندھیالوجی اسلام آباد میں اپنی تاریخی وثقافتی اشیاء کی نمائش کرے تاکہ اس تاریخی و تہذیبی ادارے میں محفوظ اہم اثاثوں کا تعارف ملک کے دیگر باشعور افراد سے بھی کرایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام منعقد کرنے کے سلسلے میں سندھیالوجی کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے وائس چانسلر اور ڈائریکٹر کی جانب سے دی گئی محبت اور مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ثقافت اور قومی ورثہ کے وفاقی سیکرٹری اسدالرحمان گیلانی نے کہا کہ سندھیالوجی ایک شاندار ثقافتی ادارہ ہے، جہاں سندھ کے خوبصورت ثقافتی رنگ محفوظ ہیں۔ یہاں نامور شخصیات کے قائم کردہ کارنرز متاثر کن ہیں، جنہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹلائز کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس سلسلے میں ادارے کی جانب سے کی گئی پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ثقافت و ورثے کے حوالے سے مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ یہ ادارے مزید ترقی کر سکیں۔ اسی مقصد کے تحت ہم سندھ کے مختلف ثقافتی اداروں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے وفاقی وزیر اور وفاقی سیکرٹری کو سندھ یونیورسٹی آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ جامعہ سندھ کے اہم ادارے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کے لیے ہمہ جہت طور پر مفید ثابت ہوگا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ثقافت اور ورثہ کے وفاقی وزیر کی جانب سے اسلام آباد میں سندھیالوجی کے قیمتی اثاثوں کی نمائش کی پیشکش شاندار ہے، جسے دل سے قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اس سلسلے میں پروپوزل تیار کر کے پیش رفت کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھیالوجی سندھ کی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی، علمی و ادبی روایات کا محافظ ادارہ ہے، جسے ملک و بیرونِ ملک وسیع شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھیالوجی کی ترقی اور فروغ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ثقافت کے وفاقی وزیر کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ادارے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سندھیالوجی ڈاکٹر فیاض لطیف نے مہمانوں کو باضابطہ طور پر خوش آمدید کہا اور وائس چانسلر کی جانب سے سندھیالوجی کی بہتری کے حوالے سے رہنمائی، حوصلہ افزائی اور تعاون کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اسے اپنے لیے حوصلہ افزا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاریخی ادارے کی خدمت کی ذمہ داری ایک بڑی سعادت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ان روایات کو اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے جو ہمارے محسنوں نے قائم کیں اور جو ادارے کے بنیادی منشور کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ثقافت کے وفاقی وزیر اور سیکرٹری کی جانب سے ادارے کے لیے خیرسگالی کے جذبے کو سراہتے ہوئے ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر نے مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی علامت اجرک کے تحائف بھی پیش کیے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد محمد ایوب جمالی، ڈائریکٹر جنرل ڈپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم اسلام آباد امان اللہ اور پرو وائس چانسلر مین کیمپس سندھ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ بھی موجود تھے۔








