بیجنگ۔21جنوری (اے پی پی):چین نےسکس جی ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا اور اس مرحلے کے دوران 300 سے زیادہ بنیادی ٹیکنالوجیز کا ذخیرہ بھی جمع کر لیا ہے۔ چائنا ڈیلی کے مطابق یہ بات چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بدھ کو بتائی۔ وزارت کی طرف سے اس حوالےسے ملک کی انفارمین اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کے لئے پالیسی …
چین نےسکس جی ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا

مزید خبریں
بیجنگ۔21جنوری (اے پی پی):چین نےسکس جی ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا اور اس مرحلے کے دوران 300 سے زیادہ بنیادی ٹیکنالوجیز کا ذخیرہ بھی جمع کر لیا ہے۔ چائنا ڈیلی کے مطابق یہ بات چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بدھ کو بتائی۔ وزارت کی طرف سے اس حوالےسے ملک کی انفارمین اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کے لئے پالیسی سازوں کی کوششوں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ وزارت کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ژی کون نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حال ہی میں سکس جی ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کا دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے 4.838 ملین فائیو جی بیس سٹیشن قائم کیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں فائیو جی صارفین کی تعداد ایک ارب 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جو معیاری ضروری فائیو جی پیٹنٹس کے عالمی اعلانات کا 42 فیصد ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ترین انفارمیشن انفراسٹرکچر بنایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے، وزارت سکس جی کی تحقیق اور ترقی کو مزید تیز کرے گی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو تیز کرے گی اور سکس جی کے لئے ایپلی کیشن پر مبنی صنعتی ماحولیاتی نظام کو فروغ دے گی۔








