روس کینیڈا کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے، روسی سفیر

اوٹاوا۔21جنوری (اے پی پی):کینیڈا میں روس کے سفیر اولیگ سٹیپانوف نے کہا ہے کہ روس کینیڈا کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اگر موجودہ کینیڈین حکومت اس ضمن میں آمادہ نہیں تو ماسکو انتظار کرنے کے لیے تیار ہے۔تاس کے مطابق ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے موقع پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم کی جانب سے روس مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے …

اوٹاوا۔21جنوری (اے پی پی):کینیڈا میں روس کے سفیر اولیگ سٹیپانوف نے کہا ہے کہ روس کینیڈا کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اگر موجودہ کینیڈین حکومت اس ضمن میں آمادہ نہیں تو ماسکو انتظار کرنے کے لیے تیار ہے۔تاس کے مطابق ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے موقع پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم کی جانب سے روس مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے روسی سفیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے بیانات کی وضاحت ان افراد پر چھوڑ دی جانی چاہیے جنہوں نے وہ بیانات تحریر کیے۔

اولیگ سٹیپانوف نے کہا کہ روس کینیڈا کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات کا درجہ چاہتا ہے، یہ ہماری غیر متزلزل سٹریٹجک پوزیشن ہے، اگر موجودہ کینیڈین حکام اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم انتظار کریں گے۔ادھر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ڈبلیو ای ایف سے خطاب میں کہا کہ کینیڈا روس کو آرکٹک خطے میں ایک خطرہ سمجھتا ہے، جس کے پیشِ نظر وہاں اوور دی ہورائزن ریڈار نظام نصب کیا جا رہا ہے اور فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اجتماعی مغرب اب ماضی کی بات بن چکا ہے۔کینیڈین وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی کے لیے محض خود کو ڈھالنا کافی نہیں، کیونکہ پرانا عالمی نظام واپس نہیں آنے والا۔