بیجنگ۔21جنوری (اے پی پی):چین نے تائیوان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پرتنقید کرتے ہوئے اسے علاقے کی فروخت کا معاہدہ قراردے دیا ہے، تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) پر عوام کی فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ چائنا ڈیلی کے مطابق چین کی سٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان پینگ چِنگ …
چین کی تائیوان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کی مذمت

مزید خبریں
بیجنگ۔21جنوری (اے پی پی):چین نے تائیوان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پرتنقید کرتے ہوئے اسے علاقے کی فروخت کا معاہدہ قراردے دیا ہے، تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) پر عوام کی فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ چائنا ڈیلی کے مطابق چین کی سٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان پینگ چِنگ اِن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ تجارتی مذاکرات امریکا کے شدید دباؤ میں کیے گئے، جہاں امریکا نے ٹیرف کو دباؤ کےہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تائیوان کو امریکا میں اپنی سرمایہ کاری نمایاں طور پر بڑھانے پر مجبور کیا، جس سے تائیوان کی مسابقتی صنعتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
انہوں نے اس معاہدے کو ’’اقتصادی غنڈہ گردی کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے‘‘ کے مترادف قرار دیا۔معاہدے کے تحت امریکا نے تائیوان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کی شرح کم کرکے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بدلے میں تائیوان نے 250 ارب ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کرنے، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے کریڈٹ گارنٹیز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اگرچہ ڈی پی پی کے عہدیدار اس معاہدے کو بہترین ڈیل قرار دے رہے ہیں، تاہم پینگ چِنگ اِن نے نشاندہی کی کہ تائیوان مجموعی طور پر 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پابند ہو رہا ہے اور اپنے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے 40 فیصد حصے کو امریکا منتقل کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب صرف ٹیرف میں معمولی کمی یعنی 20 فیصد سے 15 فیصد کرنے کے بدلے کیا جا رہا ہے۔پینگ نے ڈی پی پی پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ رعایتوں کو مساوی تعاون کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اس معاہدے کو ’’تائیوان ماڈل‘‘ کے نام پر ’’مکمل ہتھیار ڈالنا‘‘ قرار دیا۔انہوں نے ڈی پی پی کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات تائیوان کی صنعتی زوال پذیری اور معاشی عدم استحکام کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے 500 ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری تائیوان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 80 فیصد کے برابر ہے، جو فی تائیوان شہری کے حساب سے 6 لاکھ 80 ہزار تائیوانی ڈالربنتی ہےجسے انہوں نے ڈی پی پی کی بیرونی انحصاری حکمتِ عملی کے لیے ’’سیاسی چندہ‘‘ قرار دیا۔
پینگ چِنگ اِن نے خبردار کیا کہ سیمی کنڈکٹر پیداوار کا بڑا حصہ امریکا منتقل کرنے سے جزیرے کی بنیادی صنعتی برتری ختم ہو جائے گی اور تائیوان ’’ٹیکنالوجی کے جزیرے‘‘ سے ’’کھوکھلا جزیرہ‘‘ بن کر رہ جائے گا۔امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے سی این بی سی کو بتایا کہ امریکا کا مقصد تائیوان کی سیمی کنڈکٹر پیداواری صلاحیت کا 40 فیصد حصہ امریکا منتقل کرنا ہے۔








