گرین لینڈ معاہدے میں ڈنمارک کی خودمختاری برقرار، دفاعی شرائط میں تبدیلی کی تجویز

واشنگٹن ۔22جنوری (اے پی پی):نیٹو کے سیکرٹر ی جنرل مارک روٹے کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے گئے گرین لینڈ سے متعلق مجوزہ معاہدے میں جزیرے پر ڈنمارک کی خودمختاری برقرار رکھنے، تاہم دفاعی انتظامات میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے یہ رپورٹ دو باخبر ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں گرین لینڈ …

واشنگٹن ۔22جنوری (اے پی پی):نیٹو کے سیکرٹر ی جنرل مارک روٹے کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے گئے گرین لینڈ سے متعلق مجوزہ معاہدے میں جزیرے پر ڈنمارک کی خودمختاری برقرار رکھنے، تاہم دفاعی انتظامات میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے یہ رپورٹ دو باخبر ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں گرین لینڈ کی مجموعی خودمختاری کو ڈنمارک سے امریکا منتقل کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔

تاہم 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان طے پانے والے ’’گرین لینڈ دفاعی معاہدے‘‘ کو اپ ڈیٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت امریکا کو جزیرے پر فوجی اڈے قائم کرنے اور نیٹو کی ضرورت کے تحت دفاعی علاقے بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں آرکٹک خطے میں نیٹو کی سرگرمیوں میں اضافہ، گرین لینڈ کے لیے مضبوط سکیورٹی انتظامات، اور جزیرے میں قدرتی وسائل کے استخراج جیسے نکات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گرین لینڈ میں امریکی ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام کے عناصر کی تعیناتی اور روس و چین کی جانب سے مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی شقیں بھی تجویز کا حصہ ہیں۔

ایکسیوس کے مطابق یہ تجاویز ڈنمارک کے اس دیرینہ مؤقف سے ہم آہنگ ہیں جس کے تحت گرین لینڈ پر خودمختاری ڈنمارک کے پاس رہے گی، تاہم امریکا کو وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرین لینڈ سے متعلق مستقبل کے معاہدے کا ایک فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں اور بعد میں وضاحت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک پر یکم فروری سے مجوزہ محصولات عائد نہیں کیے جائیں گے۔