"وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے سوات دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے سیدو شریف ہسپتال کا دورہ کیا، ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔”
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا سوات دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کےلیے سیدو شریف اسپتال کا دورہ
سوات۔ 04 اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے سوات دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے سیدو شریف ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کیا، زخمی افراد اور اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے اہل خانہ کے حوصلے کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا وہ قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے زخمیوں کی خیریت دریافت کرنے اور ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ وفاقی انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ انہیں یہ سن کر انتہائی افسوس ہوا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو ایسے نازک موقع پر بھی سیاست کی فکر لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور گزشتہ تیرہ برس سے صوبے میں انہی کی جماعت کی حکومت قائم ہے، اس لیے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت الزام تراشی یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا وقت نہیں، بلکہ سیاست سے بالاتر ہو کر دہشت گردی جیسے ناسور کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وہ خود دہشت گردی کے سات خودکش حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، انہیں اس درد کا احساس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث بے شمار لوگ شہید ہوئے، ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر اندرونِ ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور انہوں نے خود بھی اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ اس لیے وہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور تکلیف کو پوری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض بیانات دینے یا سیاست چمکانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر عملی اقدامات کرے اور اس ناسور کے خلاف ایک مضبوط اور مشترکہ موقف اختیار کرے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ متاثرین کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔وفاقی وزیر نے دھماکے میں زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری، فرض شناسی اور قربانی کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر محافظوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جبکہ حکومت ان کی فلاح و بہبود اور علاج کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ دورے کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اور پولیس کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے جنہوں نے وفاقی وزیر کو دھماکے کے واقعے، سیکیورٹی صورتحال اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس سے قبل سیدو شریف اسپتال پہنچنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، سینئر ڈاکٹروں اور انتظامی عملے نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا اور انہیں زخمیوں کی مجموعی صورتحال، جاری علاج اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے آگاہ کیا۔ انجینئر امیر مقام نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دکھ کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور زخمیوں کے علاج و بحالی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے سوات خودکش حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں اور دیگر شہدا کے اہلِ خانہ کے گھروں میں جا کر فاتحہ خوانی کی، ان سے دلی اظہارِ تعزیت کیا اور شہدا کے درجاتِ بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر مسلم لیگ(ن) سوات ڈویژن کے صدر واجد علی خان،سابق صوبائی وزیر و سابق ضلع ناظم و سکرٹری جنرل محمد علی شاہ خان ، ضلع صدر قوی خان، سٹی مینگورہ صدر حاجی عمران خان،سکرٹری جنرل نور خان، وزیرِاعظم یوتھ کوآرڈینیٹر سید صادق عزیز باچا،سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل اللہ خان و دیگر پارٹی عہدیداران و زمہ داران بھی ان کے ہمراہ تھے۔









