پشاور۔ 23 جنوری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بچوں کی ہمہ جہت کردار سازی کےلیے اخلاقیات / کریکٹر ایجوکیشن نصاب کا باضابطہ اجراءکر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر نئے کریکٹر ایجوکیشن نصاب کا آغاز یکم مارچ سے ضلع لوئر چترال کے پرائمری سکولوں سے کیا جائے گا جسے اگلے مرحلے میں صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ یہ نصاب پہلی سے پانچویں جماعت …
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بچوں کی ہمہ جہت کردار سازی کےلیے اخلاقیات/کریکٹر ایجوکیشن نصاب کا باضابطہ اجراء کر دیا
پشاور۔ 23 جنوری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بچوں کی ہمہ جہت کردار سازی کےلیے اخلاقیات / کریکٹر ایجوکیشن نصاب کا باضابطہ اجراءکر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر نئے کریکٹر ایجوکیشن نصاب کا آغاز یکم مارچ سے ضلع لوئر چترال کے پرائمری سکولوں سے کیا جائے گا جسے اگلے مرحلے میں صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ یہ نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ کو پڑھایا جائے گا اور سرکاری و نجی سکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔نئے نصاب میں اسوہ حسنہ، مقامی ثقافت، معاشرتی، نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اخلاقیات کے اس نصاب کے ذریعے بچوں کو اسلامی، پختون اور علاقائی روایات کے ساتھ ساتھ شہری ذمہ داریوں سے بھی آگاہی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دور میں اپنی اقدار، ثقافت اور روایات کا تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت اور اقدار سے دور ہو جائیں۔ سکولوں میں اخلاقیات کا نصاب متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت انسانیت کے لیے زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہے اور سنت رسولﷺ میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اخلاقیات کے بعد جلد سکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا سبجیکٹ بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ اسلامی اقدار کے ساتھ جدید سائنسی علوم کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کا پیغامِ خودی آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے، اسی لیے کریکٹر ایجوکیشن کریکولم میں خودی کا موضوع بھی شامل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی قومی خودداری کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ قوم کو خوددار بنانے کےلیے تعلیم اور کردار سازی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ چکی ہے جبکہ ہمارا بچہ آج بھی امن کا متلاشی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مذہبی، سائنسی اور اخلاقی تعلیم فراہم کرے ۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بچوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم، تعلیم اور ترقی کا راستہ دکھایا جائے گا۔ گذشتہ پچیس سالوں میں صوبے نے دہشتگردی اور تشدد ہی دیکھا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کو علم اور روشن مستقبل کی طرف لے جایا جائے۔
وزیراعلی نے کہا کہ اجتماعی دانش اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر بنائی گئی پالیسیاں موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی بحران، جی ڈی پی گروتھ میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے جیسے مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم، کردار سازی اور درست سمت کا تعین ہے۔









