لاہور۔23جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کی منظوری دے دی۔ جس کے بعد تمام ضلعی عدالتوں میں نئے نظام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اس جدید سسٹم کے تحت اب صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں کی یومیہ کارکردگی صرف ایک کلک پر دستیاب ہوگی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کسی بھی وقت صوبے کے کسی …
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کی منظوری دے دی

مزید خبریں
لاہور۔23جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کی منظوری دے دی۔ جس کے بعد تمام ضلعی عدالتوں میں نئے نظام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اس جدید سسٹم کے تحت اب صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں کی یومیہ کارکردگی صرف ایک کلک پر دستیاب ہوگی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کسی بھی وقت صوبے کے کسی بھی ضلع، تحصیل یا عدالت کی کارکردگی کا براہِ راست جائزہ لے سکیں گی۔
پرفارمنس انفارمیشن سسٹم ازخود روزانہ کی بنیاد پر دائر ہونے اور فیصلہ ہونے والے مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں موجود ججز کی تعداد، زیرِ التوا مقدمات کی تعداد اور ان کی نوعیت بھی سسٹم کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے ۔یہ سسٹم سول عدالت سے لے کر تحصیل، ضلع اور پورے پنجاب کی اجتماعی عدالتی کارکردگی کو بھی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔
دیوانی، فوجداری اور دیگر نوعیت کے مقدمات کی کیٹیگری وائز اور کورٹ وائز تفصیل بھی سسٹم کا حصہ ہے، جس سے عدالتی امور میں شفافیت اور نگرانی کے عمل کو موثر بنایا گیا ہے۔ پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ماڈل کورٹس کے روزانہ فیصلوں کی تفصیلات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ سسٹم فریقین کے وکلا کی مکمل کارروائی کے بعد ہونے والے فیصلوں، یکطرفہ فیصلوں اور دیگر اقسام کے فیصلوں کی علیحدہ علیحدہ تفصیل بھی فراہم کرتا ہے۔
نیا نظام عدالت، ضلع اور صوبہ پنجاب کی سطح پر دائر اور فیصلہ ہونے والے مقدمات کی تفصیلات کو گرافیکل انداز میں بھی ظاہر کرتا ہے، جس سے عدالتی کارکردگی کا تجزیہ مزید آسان ہو گیا ہے۔چیف جسٹس کی خصوصی ہدایت پر لاہور ہائیکورٹ کی آئی ٹی ٹیم نے یہ جدید پرفارمنس انفارمیشن سسٹم تیار کیا، سسٹم کی تیاری ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے مکمل کی،یہ نیا پرفارمنس انفارمیشن سسٹم جلد لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، جس سے عدالتی نظم و نسق میں شفافیت، رفتار اور موثر نگرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔








