کارپٹ کی صنعت کا مستقبل روایتی محنت طلب ہنر کو جدید، پائیدار طریقوں ،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں مضمر ہے، تحقیق و ترقی کے نتیجے میں صنعت کو عالمی منڈیوں تک وسعت ملی ہے ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت گزرتے وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور جو صنعت کبھی مکمل طور پر روایتی ہنر تک محدود تھی اب جدید تقاضوں کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہی ہے،اگرچہ ہاتھ سے قالین کی تیاری کے مراحل غیر معمولی طور پرمحنت طلب …

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت گزرتے وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور جو صنعت کبھی مکمل طور پر روایتی ہنر تک محدود تھی اب جدید تقاضوں کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہی ہے،اگرچہ ہاتھ سے قالین کی تیاری کے مراحل غیر معمولی طور پرمحنت طلب ہیں تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس کے پیداواری طریق کار اور تجارتی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، ہاتھ سے بنے قالینوں میں جدید تکنیک کے استعمال سے یہ ثابت ہوا ہے کہ روایتی ہنر کو جدت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے دفتر میں تربیت حاصل کرنے والے ہنر مندوں ، مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اعجاز الرحمن نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے نتیجے میں اس صنعت کو عالمی منڈیوں تک وسعت ملی ہے جہاں فن دستکاری اور ٹیکنالوجی کا امتزاج اسے نئی پہچان دے رہا ہے، تحقیق کا بنیادی مقصد روایتی کاریگری کو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے جس میں ڈیزائن میں جدت، ماحول دوست مواد اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن ، ماحول دوست رنگوں کا استعمال اور ہنر مندوں کے لیے بہتر اور محفوظ کام کے حالات تحقیق کے اہم شعبے ہیں، ان اقدامات کا مقصد ہاتھ سے بنے قالینوں کو مشینی مصنوعات کے مقابلے میں مسابقتی بنائے رکھنا ہے۔انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن، معیار بندی، مارکیٹنگ اور کام کی جگہ کے معیار میں بہتری کو بھی صنعت کے مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

انہوں نے زور دیا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کا مستقبل روایتی محنت طلب ہنر کو جدید، پائیدار طریقوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے میں مضمر ہے جبکہ تحقیق و ترقی میں مزید سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پیداواری لاگت اور مشینی مصنوعات کے بڑھتے ہوئے مقابلے جیسے چیلنجز پر قابو پایا جا سکے۔