پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب، بڑھتے بجلی نرخوں نے سولر کو عوام کی پہلی ترجیح بنا دیا،سیف الرحمان

لاہور۔25جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ معاشی، پالیسی اور تکنیکی عوامل کے امتزاج نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا رخ تیزی سے قابل تجدید ذرائع خصوصا شمسی توانائی کی جانب موڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک واضح سولر انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ لاہور میں سولر توانائی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے وفد سے گفتگو …

لاہور۔25جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ معاشی، پالیسی اور تکنیکی عوامل کے امتزاج نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا رخ تیزی سے قابل تجدید ذرائع خصوصا شمسی توانائی کی جانب موڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک واضح سولر انقلاب برپا ہو رہا ہے۔

لاہور میں سولر توانائی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخوں، بار بار لوڈشیڈنگ اور ایندھن کی درآمد پر بڑھتے ہوئے زرِمبادلہ کے اخراجات نے گھریلو صارفین، کاروباری طبقے اور صنعتی شعبے کو متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، جن میں شمسی توانائی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور کم لاگت حل کے طور پر سامنے آئی ہے۔

سیف الرحمن نے بتایا کہ عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی، فوٹو وولٹائیک ٹیکنالوجی کی بہتر ہوتی ہوئی کارکردگی اور نیٹ میٹرنگ جیسی سہولیات نے سولر سسٹمز کی لاگت کی واپسی کو خاصا کم کر دیا ہے، جس کے باعث چھتوں پر سولر پینلز لگانا مالی طور پر نہایت پرکشش بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے معاون اقدامات ، سولر آلات پر ٹیکس میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق عوامی شعور میں اضافہ بھی شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلائو کا باعث بن رہا ہے۔

سیف الرحمن نے کہا کہ سولر توانائی کے فروغ سے نہ صرف قومی گرڈ پر دبائو کم ہوا ہے بلکہ یہ توانائی کے تحفظ، زرِمبادلہ کی بچت اور ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی اور صنعتی صارفین اپنی پیداواری لاگت کم کرنے اور مسابقت بڑھانے کے لیے تیزی سے شمسی توانائی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جبکہ دیہی اور آف گرڈ علاقوں میں شمسی توانائی کے منصوبے عوام کو سستی اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کر رہے ہیں۔