اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے زیر اہتمام ثقافتی و موسیقی سے بھرپور تقریب ’’لیقۂ عشق ہمالیہ کے پراسرار موسیقی رنگ‘‘ پی این سی اے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس نے ناظرین کو پاکستان کی روایتی اور صوفی موسیقی کی ایک منفرد علمی و ثقافتی جھلک پیش کی۔یہ پروگرام بروشاسکی ریسرچ اکیڈمی(بی آر اے) اور شانِ تاجلی کی مشترکہ کوشش کے …
پی این سی اے میں ’’لیقۂ عشق ہمالیہ کے پراسرار موسیقی رنگ‘‘، ثقافت اور صوفی موسیقی کا شاندار امتزاج

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے زیر اہتمام ثقافتی و موسیقی سے بھرپور تقریب ’’لیقۂ عشق ہمالیہ کے پراسرار موسیقی رنگ‘‘ پی این سی اے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس نے ناظرین کو پاکستان کی روایتی اور صوفی موسیقی کی ایک منفرد علمی و ثقافتی جھلک پیش کی۔یہ پروگرام بروشاسکی ریسرچ اکیڈمی(بی آر اے) اور شانِ تاجلی کی مشترکہ کوشش کے تحت پی این سی اے کی سرپرستی میں منعقد ہواجس میں خاص طور پر ہمالیہ کے علاقوں گلگت بلتستان، ہنزہ اور چترال کی موسیقی پر توجہ دی گئی جبکہ سندھ اور بلوچستان کی موسیقی کی جھلک بھی پیش کی گئی۔
مشہور صوفی شاعر، عالم اورمحقق علامہ ناصر الدین ناصر ہنزائی کی روحانی اور ادبی میراث سے متاثر یہ تقریب حکمت، محبت، امن، قومی یکجہتی اور وطن سے عقیدت کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ موسیقی اور شاعری کے ذریعے ثقافتی ورثے کو ہارمونی اور اجتماعی شناخت کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔قومی اور بین الاقوامی فنکاروں کی ایک شاندار لائن اپ نے ناظرین کو مسحور کن پرفارمنسز سے محظوظ کیاجن میں کلاسیکی، نیم کلاسیکی، لوک اور صوفی موسیقی شامل تھی۔
نمایاں فنکاروں میں سلمان عادل، ستارہ جہاں، خرم لطیفی، عابد کریم، گل باز خان، تسلیم کوثر، سدرہ رحمت، توصیف، شعیب سلطان کے علاوہ روایتی لوک فنکار گل بہار خان اور خوش دل خان شامل تھے۔ پرفارمنس میں رباب جیسے روایتی آلات نے مزید رونق بخشی۔پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے پروگرام میں بطور معزز مہمان شرکت کی۔ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں روایتی لباس اور ہمالیہ کی شال پیش کی گئی جو اس خطے کی ثقافتی میراث کی علامت ہے۔انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کے غیر مادی ثقافتی ورثے اور ثقافتی تنوع کے تحفظ اور فروغ کی ایک قابل ستائش کوشش ہے۔







