حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، خیبر پختونخوا حکومت احتجاج کی سیاست کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دے، عوام احتجاج کی کالیں سن سن کر تھک چکے ہیں، اب عوام سہولتیں چاہتے ہیں، عطاء اللہ تارڑ

کوٹ مومن ۔25جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، علاقے کو خالی کرانے سے متعلق من گھڑت اور حقائق کے منافی خبریں چلائی گئیں، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے …

کوٹ مومن ۔25جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، علاقے کو خالی کرانے سے متعلق من گھڑت اور حقائق کے منافی خبریں چلائی گئیں، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف و بحالی ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن موجود ہے، وادی تیراہ سے نقل مکانی کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔

اتوار کو یہاں سینئر صحافی عون شیرازی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے عون شیرازی کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعزیت کے لئے خود حاضر ہوئے ہیں، ہم اس دکھ میں سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سید عون شیرازی اور ان کے خاندان کا صحافت سے گہرا تعلق ہے اور انہوں نے جس ذمہ داری اور وقار کے ساتھ صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔

وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق پھیلائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ وادی تیراہ میں نقل مکانی کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف و بحالی ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن موجود ہے جس میں صوبائی حکومت کی طرف سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس کا مقصد موسم کی شدت اوردیگر عوامل کے پیش نظر لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر خیبر نے بھی اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے کہ جرگہ ہوا اور جو لوگ موسم کی شدت کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر جانا چاہتے تھے یہ رقم ان کے لئے رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا ایک واضح اور منظم طریقہ کار ہوتا ہے جس میں عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برعکس یہ کہنا کہ فوج علاقے کو خالی کروا رہی ہے، غلط اور بے بنیاد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے اس حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پر بیان جاری کر کے صورتحال کی وضاحت کی اور حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔

اس معاملے کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اگر ایسی بات ہوتی تو خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے لئے چار ارب روپے کیوں رکھے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب موسم کی شدت ہوتی ہے تو ہر سال وہاں سے نکل مکانی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ احتجاج کی سیاست کرنے کی بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے، احتجاج کی کالیں سن سن کر عوام تھک چکے ہیں اور لوگ اب سہولتیں، امن و امان اور بہتر معیار زندگی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیف سٹیز منصوبوں، سی ٹی ڈی فورس، فارنزیک لیبز کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور صحت و سماجی شعبے میں بہتری کے لئے وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام اس بات کے حق دار ہیں کہ انہیں بھی وہی معیار زندگی میسر ہو جو ملک کے دیگر صوبوں میں موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں فیصلہ احتجاج کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کی بنیاد پر ہوگا اس لئے عوام کی خدمت کو ترجیح دی جائے۔