غیر منظور شدہ ری جنریٹو میڈیسن اور اسٹیم سیل تھراپیز مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں،طبی ماہرین

راولپنڈی۔25جنوری (اے پی پی):طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر منظور شدہ ری جنریٹو میڈیسن اور اسٹیم سیل تھراپیز مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں، اس لیے اس نوعیت کے علاج صرف مستند ماہرین، جدید سہولیات اور مکمل قانونی واخلاقی فریم ورک کے تحت ہی انجام دیئے جانے چاہئیں۔ ماہرین طب، معالجین اور اسپیشلسٹس کا کہنا ہے کہ ری جنریٹو میڈیسن سے متعلق …

راولپنڈی۔25جنوری (اے پی پی):طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر منظور شدہ ری جنریٹو میڈیسن اور اسٹیم سیل تھراپیز مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں، اس لیے اس نوعیت کے علاج صرف مستند ماہرین، جدید سہولیات اور مکمل قانونی واخلاقی فریم ورک کے تحت ہی انجام دیئے جانے چاہئیں۔ ماہرین طب، معالجین اور اسپیشلسٹس کا کہنا ہے کہ ری جنریٹو میڈیسن سے متعلق کسی بھی طریقہ علاج کی انجام دہی صرف ان ہی ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو کرنی چاہیے جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے تسلیم شدہ ہوں۔ معروف نیورو سرجن ڈاکٹر محمد یوسف نے اس حوالے سے کہا کہ اسٹیم سیلز کی ترسیل ایک نہایت پیچیدہ اور حساس عمل ہے جس میں خلیات کے غلط طریقے سے جڑنے، غیر مطلوبہ مقامات پر منتقل ہونے اور جراحی کے دوران مختلف پیچیدگیوں جیسے سنگین خطرات شامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس قسم کے علاج کے لیے جدید طبی سہولیات، درست مقدار (ڈوزنگ) کا تعین اور طویل المدتی طبی نگرانی نہایت ضروری ہے جبکہ غیر ماہر افراد کے ہاتھوں یہ عمل مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب کا بنیادی اصول حکومتی ہدایات اور قانونی اجازت ناموں کی مکمل پاسداری ہے۔ ادھر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اسٹیم سیل تھراپی اور ری جنریٹو میڈیسن سے متعلق تمام طریقہ علاج قانونی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ کمیشن نے صوبے میں بعض صحت کے اداروں کی جانب سے غیر منظور شدہ اسٹیم سیل تھراپیز کی پیشکش پر عوام کے لیے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق کچھ کلینکس اور ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والے بغیر کسی ریگولیٹری منظوری کے ان علاجوں کی تشہیر کر کے مجبور اور لاعلاج مریضوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اسٹیم سیل تھراپی عمومی طور پر تاحال تجرباتی مرحلے میں ہے، سوائے چند ثابت شدہ طریقہ علاج کے، جیسے مخصوص خون کی بیماریوں کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ (بی ایم ٹی)۔ پی ایچ سی نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ اس نوعیت کی تحقیق یا تھراپی فراہم کرنا چاہتا ہے تو اسے نیشنل بایو ایتھکس کمیٹی (این بی ای سی) اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی کلینیکل اسٹڈیز کمیٹی (سی ایس سی) سے پیشگی باقاعدہ اجازت حاصل کرنا لازم ہے۔

میڈیکل اسپیشلسٹ اور یورولوجسٹ ڈاکٹر عدنان نے بھی غیر مستند افراد کے ہاتھوں اسٹیم سیل تھراپی کرانے کے شدید خطرات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر منظم اور غیر معیاری اسٹیم سیل انجیکشنز شدید انفیکشن، مدافعتی نظام کے شدید ردعمل، رسولیوں (ٹیومرز) کی تشکیل اور حتیٰ کہ جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دائمی درد یا اعضا کی خرابی جیسے مسائل میں فوری افاقے کی امید رکھنے والے مریض خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ اکثر ایسے علاج ان کی صحت کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ دائمی بیماریوں کے مستقل علاج کے مبالغہ آمیز اور غیر حقیقی دعوے کرنے والے غیر مجاز معالجین نہ صرف مریضوں کی صحت بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ کمیشن کے حکام کے مطابق خلاف ورزی کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں جن میں بھاری جرمانے، کلینکس کو سیل کرنا اور دیگر قانونی اقدامات شامل ہیں۔ کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی غیر مجاز کلینک یا فرد کی جانب سے اسٹیم سیل تھراپی یا ری جنریٹو میڈیسن کی پیشکش کی صورت میں فوری طور پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹول فری ہیلپ لائن 0800-00-742، واٹس ایپ نمبر 0306-0843500 یا ای میل [email protected] پر اطلاع دیں۔