اسلام آباد۔ 25 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ پردہ نشین اور غیر تعلیم یافتہ خواتین سے منسوب مبینہ فروخت کے معاملات میں سخت قانونی معیار پورا کرنا لازم ہے اور اسی اصول کے تحت عدالت نے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی …
پردہ نشین اور غیر تعلیم یافتہ خواتین سے منسوب مبینہ فروخت کے معاملات میں سخت قانونی معیار پورا کرنا لازم ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 25 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ پردہ نشین اور غیر تعلیم یافتہ خواتین سے منسوب مبینہ فروخت کے معاملات میں سخت قانونی معیار پورا کرنا لازم ہے اور اسی اصول کے تحت عدالت نے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد اسحاق اور ایک اور کی جانب سے دائر سول پٹیشن فار لیو ٹو اپیل نمبر 4878/2025 کی سماعت کی، جو لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کے 11 ستمبر 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مدعا علیہ سلمیٰ بیگم نے دعویٰ دائر کیا تھا کہ وہ ایک سادہ، عمر رسیدہ، غیر تعلیم یافتہ اور پردہ نشین خاتون ہیں۔ ان کے شوہر شاھنواز 2012 میں وفات پا گئے تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مرحوم شوہر اور درخواست گزاروں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے باعث زیرِ تنازعہ اراضی درخواست گزاروں کو کرائے پر دی گئی تاہم اسی اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے کرایہ نامے کے بجائے دیگر دستاویزات پر انگوٹھے کے نشانات لے لیے گئے، جس کے نتیجے میں 2015 میں سیل میوٹیشن منظور کروا لی گئی درخواست گزاروں نے دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرایا تاہم ٹرائل کورٹ نے 4 جولائی 2022 کو دعویٰ خارج کر دیا۔
بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ نے بھی 19 جنوری 2023 کو خاتون کی اپیل مسترد کر دی۔ اس کے بعد سلمیٰ بیگم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے نظرثانی اختیار استعمال کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے دونوں فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق مدعا علیہ نے بطور گواہ پیش ہو کر خود کو پردہ نشین، غیر تعلیم یافتہ اور دیہی پس منظر کی خاتون ثابت کیا جس کے باعث قانون کے تحت یہ ذمہ داری درخواست گزاروں پر عائد ہوتی تھی کہ وہ ثابت کرتے کہ مبینہ فروخت آزاد مرضی اور مکمل آگاہی کے ساتھ عمل میں آئی۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ خاتون کے دو بیٹے بالغ تھے تاہم مبینہ انتقال کے وقت ان میں سے کسی ایک نے بھی ان کی شناخت نہیں کی، جبکہ شناخت کرنے والا گواہ درخواست گزاروں کا قریبی رشتہ دار تھا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا۔عدالت نے مزید کہا کہ پردہ نشین خواتین کے معاملات میں سپریم کورٹ ماضی میں بھی سخت احتیاطی اصول طے کر چکی ہے، جن کے مطابق ایسے لین دین میں آزاد مرضی، لین دین کی نوعیت کی مکمل وضاحت، غیر جانبدار مشورے، معتبر گواہوں اور فروختی رقم کی ادائیگی کو ثابت کرنا لازم ہوتا ہے، تاہم درخواست گزار ان تقاضوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ متنازعہ سیل میوٹیشن ایک مبینہ زبانی فروخت پر مبنی تھی، جبکہ قانون کے مطابق جب کسی انتقال کو چیلنج کیا جائے تو اس کے پیچھے موجود اصل لین دین کو ثابت کرنا ضروری ہوتا ہےکیونکہ انتقال بذاتِ خود ملکیت کا دستاویز نہیں ہوتا۔ درخواست گزار اپنے تحریری بیان میں بھی مبینہ زبانی فروخت کی تفصیلات پیش نہ کر سکےسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شواہد میں موجود تضادات، گواہوں کے مفادات کے ٹکراؤ اور قانونی بوجھ پورا نہ ہونے کے باعث لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست تھا۔ عدالت نے کسی قانونی یا مادی بے ضابطگی کے فقدان میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے درخواستِ اجازتِ اپیل اور متعلقہ سی ایم اے خارج کر دی، جبکہ اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔







