اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پاکستان اور چین کے درمیان روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) اور سائنسی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے صحت اور تحقیق کے شعبوں میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔وہ اتوار کو پاکستان ٹی سی ایم پریکٹیشنرز ٹریننگ پروگرام کی اختتامی تقریب …
پاکستان چین روایتی طب تعاون میں توسیع ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پاکستان اور چین کے درمیان روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) اور سائنسی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے صحت اور تحقیق کے شعبوں میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔وہ اتوار کو پاکستان ٹی سی ایم پریکٹیشنرز ٹریننگ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے6 ماہ پر مشتمل پہلے تربیتی مرحلے کی تکمیل کوپاکستان چین سائنسی و طبی تعاون میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
اس موقع پر انہوں نے اُن پاکستانی ڈاکٹروں کو مبارکباد دی جنہوں نے ہنان یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن اور ہوائی ہوا یونیورسٹی آف میڈیسن جیسے ممتاز چینی اداروں میں سخت اور جامع تربیت مکمل کی۔پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے چینی جامعات کی مثالی مہمان نوازی، رہنمائی اور تعلیمی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تربیت نے پاکستان، جو دنیا کا پانچواں بڑاآبادی والا ملک ہے، میں صدیوں پرانی چینی طریقہ علاج کومتعارف کرانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان کے صحت کے نظام میں روایتی چینی طب کو شامل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر شن من لیو جو عالمی ادارۂ صحت کے ماہر اور چین کے لیے کامسٹیک کوآرڈینیٹر ہیں، کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں روایتی طب،نیورو فارماکولوجی اور بایومیڈیکل سائنسز میں پاکستان چین تعاون کا اہم سفیر قرار دیا۔کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نےسندھ کی وزیر صحت و آبادی بہبود ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پروگرام کے پہلے مرحلے کے آغاز میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔
انہوں نے نیشنل ایڈمنسٹریشن آف ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن (این اے ٹی سی ایم) کی جانب سے فراخدلانہ تعاون،خصوصاً سائنو پاکستان سینٹر کے قیام میں معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے اسلام آباد میں چینی سفارتخانے، چین میں پاکستانی سفارتخانے اور انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز (ICCBS) کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیاجنہوں نے پروگرام کے آغاز اور نفاذ کے دوران درپیش چیلنجز پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اعلان کیا کہ پاکستانی ڈاکٹروں کی تربیت کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ننگبو میں ژیجیانگ پاکستان جوائنٹ لیبارٹری کا قیام، اپریل 2026 میں اسلام آباد میں چین۔او آئی سی یوتھ سمٹ آن ہیومن نیوٹریشن اینڈ ٹریڈیشنل میڈیسن کا انعقاد، کامسٹیک۔چین سینٹر آف ایکسی لینس برائے کلینیکل ٹرائلز کا قیام اور اسپیس میڈیسن پروگرام کا آغاز بھی آئندہ منصوبوں میں شامل ہیں۔
خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے او آئی سی کامسٹیک اور آئی سی سی بی ایس میں قائم سائنو پاکستان ٹی سی ایم سینٹر کی جانب سے تمام شراکت داروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پرپروفیسر کاؤ لیانگ، پروفیسر رضا محمد رضا شاہ، حکومت سندھ اور دیگر متعلقہ افراد کے مؤثر تعاون کو سراہا۔







