پاکستان سائنس فائونڈیشن کا ملک بھر میں سائنس کلبز قائم کرنے کا منصوبہ تیار

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (پی ایس ایف) نے طلبہ اور نوجوانوں میں سائنسی سوچ کو فروغ دینے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ضلع کی سطح پر ملک بھر میں سائنس کلبز قائم کرنے کے حوالے سے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔یہ اقدام اس وقت منظوری کے مرحلے میں ہے اور چیئرمین پاکستان سائنس فاؤنڈیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل کا تصور سائنس،ٹیکنالوجی اور …

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (پی ایس ایف) نے طلبہ اور نوجوانوں میں سائنسی سوچ کو فروغ دینے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ضلع کی سطح پر ملک بھر میں سائنس کلبز قائم کرنے کے حوالے سے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔یہ اقدام اس وقت منظوری کے مرحلے میں ہے اور چیئرمین پاکستان سائنس فاؤنڈیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل کا تصور سائنس،ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے قومی ترقی کے موجودہ حکومتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سائنس کلبز کو ضلع کی سطح پر قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طلبہ کو سائنسی تعلیم اور اختراع میں عملی طور پر حصہ لینے کے لیے منظم پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے ۔مجوزہ سائنس کلبز کا مقصد طلبہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے دلچسپی پیدا کرنا، تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا اور اساتذہ کی نگرانی میں عملی سرگرمیوں، تجربات اور منصوبوں کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ کلبز سائنس شوز، سائنس میلوں، نمائشوں، مقابلوں اور قومی اہمیت کے موضوعات پر آگاہی سیشنز کے انعقاد کیلئے بھی مرکزی مراکز کا کردار ادا کریں گے۔اس اقدام کے اہم مقاصد میں سائنسی تجسس، تخلیقی سوچ اور تنقیدی فکر کو فروغ دینا، عملی سیکھنے کی حوصلہ افزائی، متعدد سکولوں کو فائدہ پہنچانے والے ضلع سطح کے سائنس مراکز فراہم کرنا، کم عمری میں سائنسی صلاحیتوں کی نشاندہی، ان کی تربیت اور بالخصوص پسماندہ اور دور دراز اضلاع میں سٹیم کلچر کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

اگرچہ یہ منصوبہ ابھی منظوری کے مرحلے میں ہے تاہم اس کے وسیع فریم ورک کے تحت ضلع کی سطح پر منتخب سکولوں میں سائنس کلبز قائم کیے جائیں گے جنہیں تربیت یافتہ اساتذہ کی معاونت حاصل ہوگی اور انہیں پی ایس ایف کی جاری سائنس مقبول بنانے کی سرگرمیوں سے منسلک کیا جائے گا۔پاکستان سائنس فاؤنڈیشن جو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کر رہی ہے ملک میں سائنسی تحقیق اور سائنس کے فروغ کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔اس کے دائرۂ اختیار میں سائنسی اداروں کو مضبوط بنانا اور عوام میں سائنس کے بارے میں شعور اجاگر کرنا شامل ہے جس کے لیے آؤٹ ریچ پروگرامز، سیمینارز اور صلاحیت سازی کی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

مجوزہ سائنس کلبز کے علاوہ پی ایس ایف پہلے ہی سائنسی آگاہی کے فروغ کے لیےمتعدد اقدامات کر رہی ہے۔ ان کوششوں کے تحت حال ہی میں ’’حیاتیاتی تنوع‘‘ اور ’’موسمیاتی تبدیلی: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے موضوعات پر دو سیمینارز منعقد کئے گئےجن میں ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں سائنس کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔اسی دوران ’سائنس و ٹیکنالوجی میں شفافیت اور احتساب‘ کے عنوان سے ایک اور سیمینار 27 جنوری کو منعقد ہونے جا رہا ہے۔

منتظم کے مطابق سیدا ریحانہ بتول پرنسپل سائنٹیفک آفیسر (پی ایس او)، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، یہ سیمینار سائنس و ٹیکنالوجی کے محکموں میں شفافیت، احتساب اور ای-گورننس پر توجہ مرکوز کرے گا۔ تقریب میں وفاقی وزیر اور وفاقی سیکریٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے علاوہ سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کی شرکت متوقع ہے۔

ریحانہ بتول نے امید ظاہر کی کہ سائنس کلبز کا یہ اقدام طلبہ کی سٹیم شعبوں میں دلچسپی اور شرکت میں اضافے، سائنسی تصورات کی عملی سمجھ میں بہتری، قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے باصلاحیت طلبہ کی نشاندہی اور طویل المدتی طور پر پاکستان میں سائنسی جدت کے کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔