لاہور۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے بابر اعظم اور محمد رضوان کے درمیان موازنہ کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں انفرادی موازنوں کے بجائے مجموعی توازن اور حکمت عملی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ …
عاقب جاوید نے بابر اور رضوان کے موازنہ کو غیر منطقی قرار دیدیا، حارث روف کی عدم شمولیت کی وضاحت

مزید خبریں
لاہور۔25جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے بابر اعظم اور محمد رضوان کے درمیان موازنہ کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں انفرادی موازنوں کے بجائے مجموعی توازن اور حکمت عملی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026کیلئے پاکستانی اسکواڈ کی تشکیل کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایک مربوط اور متوازن بیٹنگ یونٹ کا تقاضا کرتی ہے۔
بابر اعظم کو محمد رضوان پر ترجیح دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایک کھلاڑی کا انتخاب دوسرے کی نفی نہیں ہوتا۔ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بیٹنگ کمبی نیشن کس طرح بہتر بنتا ہے۔ عاقب جاوید نے کہاکہ کپتان اور کوچ دونوں بابر اعظم کو ٹیم کے لیے نہایت اہم کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے تقابل میں کوئی منطق نہیں کہ ایک کو منتخب کرنے کا مطلب دوسرے کو مسترد کرنا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کی توجہ انفرادی ناموں کے بجائے پوری ٹیم کی مضبوطی پر ہوتی ہے۔ ہم یہ جانچتے ہیں کہ کون سا کھلاڑی مخصوص حالات اور کنڈیشنز میں ٹیم کے لیے زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔اس موقع پر وکٹ کیپنگ کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے عثمان خان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان کی حالیہ کارکردگی اور ہمہ جہتی صلاحیتوں کو سراہا۔ ہیسن کے مطابق عثمان نے دبا ؤ کے لمحات میں پرسکون انداز اپنایا اور وکٹوں کے پیچھے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے تین مشکل رن چیزز میں ناٹ آوٹ رہتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا جبکہ سری لنکا میں ان کی وکٹ کیپنگ ہماری توقعات سے کہیں بہتر اور اعلیٰ معیار کی رہی۔ہیسن نے واضح کیا کہ ٹیم کو جس نوعیت کے وکٹ کیپر کی ضرورت ہے، وہ مڈل آرڈر میں، عموما ًپانچویں یا چھٹی پوزیشن پر بیٹنگ کرنے والا کھلاڑی ہے، جو محمد رضوان کے ٹاپ آرڈر کردار سے مختلف ہے۔
یہ ایک جیسا تقابل نہیں، رضوان ایک ٹاپ آرڈر بیٹر ہیں جبکہ وکٹ کیپر کا کردار مختلف ہوتا ہے اور موجودہ ٹیم کمبی نیشن میں ٹاپ آرڈر وکٹ کیپر کی گنجائش نہیں۔دریں اثنا، عاقب جاوید نے فاسٹ باولر حارث روف کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں عدم شمولیت پر بھی وضاحت پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حارث کی صلاحیت یا فارم کی بنیاد پر نہیں بلکہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔حارث روف نے پاکستان کے لیے طویل عرصے تک شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ عاقب جاوید نے کہا کہ اسکواڈ کی حتمی تشکیل کے دوران سری لنکن کنڈیشنز اور پچز کی نوعیت کو مدنظر رکھا گیا اور یہی عوامل انتخاب میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔








