پاکستان سپورٹس بورڈ کی پی ایچ ایف کو قواعد کے مطابق معاملات چلانے کی ہدایت، بد انتظامی کے حوالے سے 26 جنوری تک وضاحت طلب

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) کو قواعد کے مطابق معاملات چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے بد انتظامی پر 26 جنوری تک وضاحت طلب کرلی ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے نام ارسال کئےگئےمراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایف آئی ایچ پرو لیگ (سیزن-7) میں شرکت کے لیے 250ملین روپے کے …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) کو قواعد کے مطابق معاملات چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے بد انتظامی پر 26 جنوری تک وضاحت طلب کرلی ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے نام ارسال کئےگئےمراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایف آئی ایچ پرو لیگ (سیزن-7) میں شرکت کے لیے 250ملین روپے کے بجٹ کی منظوری سے آگاہ کیا گیا تھا۔

فیڈریشن سے درخواست کی گئی تھی کہ تین دن کے اندر ایک جامع شرکت منصوبہ پیش کرے جس میں منظم تربیتی پروگرام، سفری شیڈول، لاجسٹکس، انتظامی انتظامات اور متعلقہ تفصیلات شامل ہوں۔ یہ امر نہایت تشویش کے ساتھ نوٹ کیا گیا ہے کہ خاطر خواہ مالی منظوری اور بار بار یاد دہانیوں کے باوجود پی ایچ ایف نے نہ تو کوئی منظم تربیتی پروگرام تیار کیا اور نہ ہی شرکت کا کوئی جامع منصوبہ فراہم کیا۔

اس کے برعکس تربیتی کیمپوں اور ای او سیز کے لیے درخواستیں معمول کے مطابق آخری وقت میں اور اکثر نامکمل دستاویزات کے ساتھ جمع کرائی جاتی ہیں۔ اس طرح کی تاخیر اور قواعد کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان سپورٹس بورڈ کو ضروری انتظامات بشمول این او سی، فضائی ٹکٹ، رہائش و طعام، یونیفارم، لاجسٹکس اور یومیہ الائونس کی فراہمی کے لیے ناکافی وقت ملتا ہےجس کے نتیجے میں غیر ضروری شرمندگی اور بلاجواز تنقید جنم لیتی ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے اس حوالے سے مثال دی کہ پی ایچ ایف نے 24 نومبر سے 2 دسمبر 2025ء تک منعقد ہونے والے تربیتی کیمپ کے قیام کے لیے 23 نومبر 2025ء کو خط کے ذریعے درخواست دی، یعنی کیمپ کے آغاز سے صرف ایک دن قبل۔

یہ اقدام پاکستان سپورٹس بورڈ کے 18 اکتوبر 2024ء کو جاری کردہ معیاری طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے جن کے مطابق قومی سپورٹس فیڈریشنز کو کم از کم پندرہ دن پہلے درخواست دینا لازم ہے۔ مزید برآں کیمپ کا دورانیہ صرف نو دن تھاجو واضح طور پر ناکافی ہے اور ایک غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے،خصوصاً ایک بڑے بین الاقوامی مقابلے جیسے ایف آئی ایچ پرو لیگ کی تیاری کے لیےجہاں عوامی وسائل کی خطیر رقم کافی کوشش کے بعد فراہم کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ٹیم کی روانگی ارجنٹائن کے لیے 3 دسمبر 2025ء کو طے تھی جبکہ این او سی کی کارروائی کے لیے ضروری دستاویزات 26 نومبر 2025ء کو مکمل کرکے جمع کرائی گئیں، یعنی روانگی سے صرف سات دن قبل۔

یہ بھی پاکستان سپورٹس بورڈ کی 27 ستمبر 2024ء کو جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی ہے جن کے مطابق این او سی کے معاملات کم از کم آٹھ ہفتے قبل جمع کرانا لازم ہے تاکہ وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے ساتھ بروقت رابطہ ممکن ہو سکے۔ ایف آئی ایچ پرو لیگ کے دوسرے مرحلے کے دوران آسٹریلیا میں بھی اسی نوعیت کی کوتاہیاں سامنے آئیں جہاں پی ایچ ایف نے 5 جنوری سے 31 جنوری 2025ء تک منعقد ہونے والے تربیتی کیمپ کے لیے 31دسمبر 2025ء کو درخواست دی جو ایک بار پھر تاخیر سےمنصوبہ بندی اور ناکافی طور پر منظم تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔

باوجود اس کے کہ پی ایچ ایف نے 10 سے 15 فروری 2026ء تک آسٹریلیا میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے، فیڈریشن تاحال این او سی کے اجراء کے لیے لازمی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ پی ایچ ایف کا مکمل انحصار صرف پاکستان سپورٹس بورڈ/حکومتی فنڈنگ پر ہونا فیڈریشن کے عہدیداران کےکردار اور ذمہ داری کے منافی ہے۔

اگر تمام مالی اور انتظامی ذمہ داریاں مکمل طور پر پاکستان سپورٹس بورڈ کو ہی برداشت کرنی ہوں تو ٹیم کو براہ راست پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام اورسرپرستی میں بھی چلایا جا سکتا ہے، لہٰذا پی ایچ ایف کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان سپورٹس بورڈ کی معاونت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے سمیت متعدد ذرائع سے وسائل متحرک کرے۔ مراسلے میں ہاکی فیڈریشن سے درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ نکات پر اپنی وضاحت/جواب 26 جنوری 2026ء تک لازماً فراہم کریں۔