واشنگٹن۔27جنوری (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی داخلی و خارجی پالیسیوں کے باعث فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز کے بائیکاٹ کی حمایت کر دی ہے جبکہ یورپ اور افریقا میں بھی ایسی ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق سیپ بلاٹر نے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکا میں …
سیپ بلاٹر نے امریکا کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر فیفا ورلڈ کپ 2026کے بائیکاٹ کی حمایت کر دی

مزید خبریں
واشنگٹن۔27جنوری (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی داخلی و خارجی پالیسیوں کے باعث فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز کے بائیکاٹ کی حمایت کر دی ہے جبکہ یورپ اور افریقا میں بھی ایسی ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق سیپ بلاٹر نے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ مقابلوں میں شرکت سے گریز کریں۔فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کریں گے جبکہ مقابلے 11 جون سے 19 جولائی تک کھیلے جائیں گے۔
سیپ بلاٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوئس ماہر قانون اور بدعنوانی کے خلاف سرگرم رہنے والے مارک پیتھ کے بیان کی حمایت کی، جنہوں نے فٹبال شائقین کو امریکا نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔مارک پیتھ کے مطابق امریکا پہنچنے والے شائقین کو سخت امیگریشن رویے اور سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ذرا سی ناپسندیدگی کی صورت میں انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ سیپ بلاٹر نے کہا کہ ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کے لیے ایسے حالات تشویشناک ہیں۔
بین الاقوامی فٹبال حلقوں میں امریکا کی میزبانی پر خدشات کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندیاں، امیگریشن کے سخت اقدامات اور بعض ممالک کے شہریوں پر داخلے کی ممکنہ پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔ حالیہ فیصلوں کے تحت سینیگال، آئیوری کوسٹ، ایران اور ہیٹی جیسے ممالک کے شائقین کو امریکا میں داخلے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔یورپ میں بھی بائیکاٹ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
جرمن فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر اوکے گوٹِلش نے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی میں سیاسی بنیادوں پر اولمپکس کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے تو موجودہ حالات میں فیفا ورلڈ کپ پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔افریقہ میں بھی ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعت کے رہنما جولیئس ملیما نے اپنی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرنا بزدلی کے مترادف ہوگا۔برطانیہ اور نیدرلینڈز میں بھی شائقین اور سیاست دانوں کی جانب سے بائیکاٹ کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاہم فیفا اور بیشتر قومی فٹبال فیڈریشنز نے تاحال ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔یہ معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی فٹبال اور سیاست کے تعلق پر ایک بڑی بحث کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔








