لاہور۔27جنوری (اے پی پی):جنوبی ایشیائی ممالک کا اجلاس اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کی 46ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر تاشقند میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان نے بھی شرکت کی۔ ترجمان پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق اجلاس میں جنوبی ایشیائی اولمپک ممبران نے شیخ جوآن بن حمد بن خلیفہ الثانی کو او سی اے کے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔اجلاس کی صدارت جنوبی ایشیا …
جنوبی ایشیائی ممالک کا اجلاس، اولمپک ممبران کی شیخ جوآن بن حمد بن خلیفہ الثانی کو او سی اے کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

مزید خبریں
لاہور۔27جنوری (اے پی پی):جنوبی ایشیائی ممالک کا اجلاس اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کی 46ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر تاشقند میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان نے بھی شرکت کی۔ ترجمان پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق اجلاس میں جنوبی ایشیائی اولمپک ممبران نے شیخ جوآن بن حمد بن خلیفہ الثانی کو او سی اے کے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔اجلاس کی صدارت جنوبی ایشیا کے لیے او سی اے کے نائب صدر، ایچ آر ایچ پرنس جگئیل اوگین وانگچک نے کی۔
پاکستان کی نمائندگی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور جنوبی ایشیائی اولمپک کونسل کے صدر عارف سعید اور وفاقی سیکرٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (سپورٹس ڈویژن) حکومتِ پاکستان محی الدین احمد وانی نے کی۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کی نیشنل اولمپک کمیٹیوں کے عہدیداران بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جنوبی ایشیائی کھیل آئندہ سال23 سے 31 مارچ تک منعقد کیے جائیں گے۔
اجلاس نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن / این او سی پاکستان کو یہ اختیار بھی دیا کہ انتظامی یا لاجسٹک ضروریات کے تحت اسی مدت کے اندر ایک ہفتے تک شیڈول میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔تمام رکن ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ کھیلوں کے وہی ایونٹس اور ڈسپلنز برقرار رہیں گے جن کی منظوری 25 فروری 2025 کو لاہور میں منعقدہ جنوبی ایشیائی اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی تھی۔
اجلاس میں جنوبی ایشیا میں کھیلوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پائیدار اور موثر ماڈل پر مزید مشاورت کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد علاقائی تعاون کو فروغ دینا اور ملٹی اسپورٹس ایونٹس کی بہتر اور بروقت میزبانی کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری سپورٹس پاکستان محی الدین احمد وانی نے تمام جنوبی ایشیائی ممالک کوپاکستان کے دورہ کی باضابطہ دعوت دی، تاکہ جنوبی ایشیائی کھیلوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔








