نئی دہلی ۔28جنوری (اے پی پی):بھارت کی سیاحت کے لیے مشہور ریاست گوا میں حکام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر اُسی طرح کی پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جیسی کہ آسٹریلیا میں لگائی گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ریاستی حکام کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا کے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بھارت میں دنیا میں سب سے زیادہ ایک ارب …
بھارت کی گوا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرِغور

مزید خبریں
نئی دہلی ۔28جنوری (اے پی پی):بھارت کی سیاحت کے لیے مشہور ریاست گوا میں حکام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر اُسی طرح کی پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جیسی کہ آسٹریلیا میں لگائی گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ریاستی حکام کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا کے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بھارت میں دنیا میں سب سے زیادہ ایک ارب انٹرنیٹ صارفین ہیں۔بھارت کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میٹا، گوگل، یوٹیوب اور ایکس کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے جہاں 18 برس سے کم عمر افراد کی بہت بڑی تعداد ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتی ہے۔
تاہم ملک کی مرکزی حکومت بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔ریاست کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روہن کھاونٹے نے کہا کہ گوا میں حکام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک نابالغوں کی رسائی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آسٹریلیا کے قانون کا جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اگر ممکن ہوا تو 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے اسی طرح کی پابندی کا نفاذ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات ساتھ ساتھ آئیں گی۔جنوبی ریاست آندھرا پردیش نے کہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ آندھرا پردیش کی آبادی پانچ کروڑ 30 لاکھ ہے جبکہ اس کے برعکس گوا رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ریاست ہے جس کی آبادی کا تخمینہ 15 لاکھ سے زیادہ ہے۔








