واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پرکئی روزہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ یہ مشقیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطہ میں اضافی بحری اثاثوں کی تعیناتی کے اعلان اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافےکے پس منظر میں کی جا رہی ہیں۔رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ایئر فورس سینٹرل (اے ایف سی ای این ٹی) کی طرف سے جاری بیان …
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پرکئی روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں

مزید خبریں
واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پرکئی روزہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ یہ مشقیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطہ میں اضافی بحری اثاثوں کی تعیناتی کے اعلان اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافےکے پس منظر میں کی جا رہی ہیں۔رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ایئر فورس سینٹرل (اے ایف سی ای این ٹی) کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگی تیار ی کی مشقوں کو لڑاکا طیاروں کی تیز رفتار تعیناتی اور کارروائی کی اہلیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مبینہ طور پر اس آپریشن کا مقصد اہلکاروں اور جیٹ طیاروں کو مختلف ہنگامی مقامات پر منتشر کرنے کے طریقہ کار کی توثیق کرنا اور کمانڈ کو نامعلوم اتحادی ممالک کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔AFCENT کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیرک فرانس نے کہا ہے کہ ان مشقو ں کا مقصد جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنا ہے تاکہ جب اور جہاں ضرورت ہو فضائی طاقت کی دستیابی کو نظم و ضبط کے ساتھ استعمال کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ یہ فضائی مشقیں امریکی بحریہ کے خطے میں ایک بڑے اجتماع کی تکمیل کی علامت ہیں ۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز سے لیس جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن رواں ہفتے کے آغاز میں خطے میں پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں امریکا نے اضافی F-15E اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں اور THAAD فضائی دفاعی نظام مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیا ہے۔








