تہران۔28جنوری (اے پی پی):ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ سفارت کاری ترجیح ہے مگر جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے گزشتہ روز بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کےلئے سفارتی ذرائع پر کاربند ہے تاہم کسی بھی قسم کے خطرات کا جواب دینے کے لیے مکمل …
سفارت کاری ترجیح ، جنگ کی صورت میں جواب دینے کےلئے بھی تیار ہیں، ایران

مزید خبریں
تہران۔28جنوری (اے پی پی):ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ سفارت کاری ترجیح ہے مگر جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے گزشتہ روز بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کےلئے سفارتی ذرائع پر کاربند ہے تاہم کسی بھی قسم کے خطرات کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت کی توجہ بین الاقوامی امن کے دائرے میں خطے میں سکون اور استحکام کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتکاری کو ترجیحی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتکاری پر انحصار کا یہ مطلب نہیں کہ دیگر آپشنز کو حکومتی اور ایرانی خودمختاری کی میز سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی اور متحد قیادت کے تحت کام کر رہے ہیں جبکہ ایران کی اصل طاقت اس کے قومی اتحاد میں مضمر ہے جس کے ذریعے وہ خطرناک حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنی قومی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اداروں کی ہمہ وقت تیاری کے ساتھ ان کٹھن حالات سے بخوبی نمٹیں گے۔








