غزہ میں 20 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج کے منتظر، رفح کراسنگ کی بندش سے انسانی جانوں کو خطرہ ہے،وزارت صحت

غزہ۔28جنوری (اے پی پی):غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی مسلسل بندش مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق وزارت صحت نے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت تقریباً 20 ہزار مریض ایسے ہیں جن کے میڈیکل ریفرل مکمل ہیں اور وہ بیرونِ ملک علاج کے لیے سفر کی اجازت کے منتظر ہیں۔ وزارت نے …

غزہ۔28جنوری (اے پی پی):غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی مسلسل بندش مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق وزارت صحت نے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت تقریباً 20 ہزار مریض ایسے ہیں جن کے میڈیکل ریفرل مکمل ہیں اور وہ بیرونِ ملک علاج کے لیے سفر کی اجازت کے منتظر ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ ان میں 440 کیسز ایسے ہیں جو جان بچانے کی انتہائی ہنگامی حالت میں شمار ہوتے ہیں جبکہ سفر کی اجازت کے انتظار میں اب تک 1268 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کینسر کے مریض سب سے زیادہ متاثرہ طبقات میں شامل ہیں کیونکہ ادویات اور خصوصی طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ فوری انتظار کی فہرست میں تقریباً چار ہزار کینسر کے مریض شامل ہیں، اس کے علاوہ 4500 بچے بھی ایسے ہیں جن کے میڈیکل ریفرل موجود ہیں، تاہم مئی 2024 میں کراسنگ بند ہونے کے بعد سے اب تک صرف 3100 مریض ہی غزہ سے باہر جا سکے ہیں۔