روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کا دورہ،باہمی تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

سیالکوٹ۔ 28 جنوری (اے پی پی):پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔ روسی سفیر کے ہمراہ ٹریڈ نمائندہ ڈینس نیوزوروف، چیف آف پروٹوکول سرگے چیکالن، تھرڈ سیکرٹری (دو طرفہ امور) انتون ویریشچاگن اور ریجنل ریپورٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر الماس حیدر نقوی بھی موجود تھے۔ صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سید احتشام مظہر نے روسی سفیر کا …

سیالکوٹ۔ 28 جنوری (اے پی پی):پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔ روسی سفیر کے ہمراہ ٹریڈ نمائندہ ڈینس نیوزوروف، چیف آف پروٹوکول سرگے چیکالن، تھرڈ سیکرٹری (دو طرفہ امور) انتون ویریشچاگن اور ریجنل ریپورٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر الماس حیدر نقوی بھی موجود تھے۔

صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سید احتشام مظہر نے روسی سفیر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر سیالکوٹ چیمبر کے آڈیٹوریم میں اجلاس منعقد ہوا جس میں باہمی تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ باہمی تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے برآمد کنندگان میں روسی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور اپنی اعلیٰ معیار کی روایتی اور غیر روایتی مصنوعات برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اگر تجارتی رکاوٹیں ختم کر دی جائیں تو آئندہ برسوں میں یہ حجم دوگنا ہو سکتا ہے۔

روسی سفیر نے بتایا کہ پاک روس بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کا دسواں اجلاس نومبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں بھرپور ثقافتی ایجنڈے کے ساتھ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2023 میں ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

روسی سفیر نے مزید بتایا کہ روسی تاجروں کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جس سے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔البرٹ پی خوریف نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد توانائی، زراعت، ادویہ سازی، انجینئرنگ مصنوعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روسی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔انہوں نے عوامی روابط کو مضبوط اور دیرپا دو طرفہ تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافت کو سمجھنے، اعتماد سازی اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور سفارت کاری میں تعاون بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ روسی زبان سیکھنے سے پاکستانی تاجروں کو روسی منڈی، قوانین اور کاروباری ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔روسی سفیر نے بتایا کہ اس وقت اوکاڑہ، فیصل آباد اور پشاور کی جامعات کے ساتھ روسی زبان کے پروگرامز پر کام جاری ہے اور سیالکوٹ کی جامعات کو بھی ان پروگرامز میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جیسا کہ پنجاب یونیورسٹی میں یہ پروگرام کامیابی سے شروع کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد مراد ارشد، نائب صدر سلمان شیخ سمیت سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کے نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔