اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ تجارتی کشیدگیوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود عالمی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے عالمگیرمعاشی امکانات کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے ،رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تجارتی اشیا کے ذخیرہ کرنے، سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد، اور مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بڑھتی …
تجارتی کشیدگیوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود عالمی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ تجارتی کشیدگیوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود عالمی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے عالمگیرمعاشی امکانات کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے ،رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تجارتی اشیا کے ذخیرہ کرنے، سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد، اور مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری نے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا،
توقع سے زیادہ تیز رفتار ترقی نے 2020 کی کساد بازاری کے بعد پانچ سالہ عالمی بحالی کو مکمل کیا جو گزشتہ چھ دہائیوں میں بے مثال ہے ترقی یافتہ معیشتوں نے مضبوط بحالی حاصل کی ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد ممالک اب وبا سے پہلے کی فی کس آمدنی کی سطح سے تجاوز کر چکے ہیں تاہم اب بھی ایک چوتھائی سے زائد ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں، خصوصاً کم آمدنی والے ممالک اور وہ ریاستیں جو بدامنی اور تنازعات کا شکار ہیں، 2019 کی فی کس آمدنی کی سطح تک واپس نہیں پہنچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار اس سال کم ہو کر 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے،قریب المدت عالمی اقتصادی منظرنامے کے خطرات کا جھکاو¿ منفی سمت میں ہے ،تجارتی کشیدگیاں بڑھنے ،مالی منڈیوں میں اعتمادمیں کمی ، اور مہنگائی میں اچانک اضافے کے باعث نمو متاثر ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں تجارتی ماحول کو بہتربنانے، مالی وسائل تک رسائی میں رکاوٹیں کم کرنے اور ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں سرکاری قرض 55 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔








