اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور روانڈا کی زرعی معیشتوں کے اشتراک سے ایک مضبوط عالمی خوراک کی سپلائی چین بن سکتی ہے ۔ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اسلام آباد میں روانڈا کافی فیسٹول کے افتتاح کے موقع پر روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت پروڈنس سیباہیزی سے ملاقات میں کیا ۔کافی فیسٹول کی افتتاحی …
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے روانڈا کافی فیسٹیول کا افتتاح کیا، مشرقی افریقہ کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور روانڈا کی زرعی معیشتوں کے اشتراک سے ایک مضبوط عالمی خوراک کی سپلائی چین بن سکتی ہے ۔ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اسلام آباد میں روانڈا کافی فیسٹول کے افتتاح کے موقع پر روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت پروڈنس سیباہیزی سے ملاقات میں کیا ۔کافی فیسٹول کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مشرقی افریقہ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا ۔
جام کمال نے روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت پروڈنس سیباہیزی سے بھی تفصیلی ملاقات کی جس کے دوران دونوں فریقین نے براہ راست سپلائی چین قائم کرنے، کاروبار سے کاروباری روابط کو فروغ دینے اور تجارت، زراعت، مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری اور لاجسٹک کے شعبوں میں تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان اور روانڈا زراعت پر مبنی معیشتیں ہیں، دونوں کے اشتراک سے ایک مضبوط عالمی خوراک کی سپلائی چین بن سکتی ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جہاں روانڈا کی پاکستان کو برآمدات میں روایتی طور پر چائے کا غلبہ رہا ہے، پاکستان میں کافی کی کھپت خاص طور پر نوجوان آبادی میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان سالانہ تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے جبکہ کافی کے استعمال میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روانڈا کی اعلیٰ معیار کی کافی، مسابقتی قیمتوں کا تعین اور جغرافیائی قربت اسے قدرتی برتری فراہم کرتی ہے۔
جام کمال نے کہا کہ 250 ملین سے زائد آبادی کی مارکیٹ کے ساتھ پاکستان، وسطی ایشیا، مغربی چین اور پڑوسی خطوں میں روانڈا کی کافی کی برآمدات کے لیے مستقبل کے گیٹ وے کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی جاری ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی ٹیرف لائنوں کو بتدریج کم کرے گی، درآمدات کو مزید مسابقتی بنائے گی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان روانڈا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور باہمی فائدے، مشترکہ خوشحالی اور طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد پر دوطرفہ تجارت کو متنوع بنانے کا خواہاں ہے۔انہوں نے روانڈا کو ایوکاڈو، دالیں اور پھلیاں درآمد کرنے میں پاکستان کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ متعلقہ حکام کے درمیان تعاون کے ذریعے فائیٹو سینیٹری سرٹیفیکیشن میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے روانڈا کے وزیر پروڈنس سیباہیزی نے پاکستان کو روانڈا کے لیے ایک بڑی ممکنہ منڈی قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ روانڈا کافی فیسٹیول روانڈا کی پریمیئم کافی کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
روانڈا کے وزیر نے افریقہ کے لیے تجارت اور تقسیم کے مرکز کے طور پر روانڈا کی پوزیشن کو اجاگر کیا جس سے سرمایہ کاروں کو افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا (AfCFTA) کے تحت 1.4 ارب سے زیادہ لوگوں کی مارکیٹ تک رسائی کی پیشکش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں نے پہلے ہی روانڈا میں مواقع تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں اور ان کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستانی چاول ، باسمتی اور نان باسمتی دونوں نہ صرف روانڈا میں کھائے جاتے ہیں بلکہ دوسرے افریقی ممالک کو بھی دوبارہ برآمد کیے جاتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے تیسرے ممالک کے ذریعے ٹرانس شپمنٹ پر انحصار کم کرنے کے لیے براہ راست پاکستان-روانڈا سپلائی چین قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔دونوں وزرا نے تجارتی اور اقتصادی تعاون سے متعلق مجوزہ مفاہمت کی یادداشت پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔اس کے علاوہ لائٹ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، کاسمیٹکس، زرعی آلات، کان کنی اور معدنیات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے چلنے والے شعبوں جیسے کہ آئی ٹی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔








