کوالالمپور۔30جنوری (اے پی پی):ملائیشیا میں فٹبال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش الٹا نتیجہ دے گئی، جس پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور مقامی ٹیلنٹ پر دوبارہ توجہ دینے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ملائیشین فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے ایم) کی …
غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں پر انحصار الٹا پڑ گیا، ملائیشیا میں فٹبال بحران شدت اختیار کر گیا

مزید خبریں
کوالالمپور۔30جنوری (اے پی پی):ملائیشیا میں فٹبال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش الٹا نتیجہ دے گئی، جس پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور مقامی ٹیلنٹ پر دوبارہ توجہ دینے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ملائیشین فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے ایم) کی پوری ایگزیکٹو باڈی نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت 7نیچرلائزڈ کھلاڑیوں سے متعلق اس تنازع کا تازہ موڑ ہے جن پر قومی ٹیم میں شمولیت کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات استعمال کرنے کا الزام ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف اے ایم نے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹس کے ذریعے ان کھلاڑیوں کے ملائیشیا سے نسلی تعلقات ظاہر کیے، حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی تعلق موجود نہیں تھا، جو قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کی بنیادی شرط ہے۔فیفا نے مذکورہ کھلاڑیوں کو معطل کرتے ہوئے ایف اے ایم پر 4 لاکھ 50ہزار ڈالر سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا۔ تاہم فٹبال ایسوسی ایشن اور کھلاڑیوں نے کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹ میں اپیل دائر کی، جس نے فروری کے آخر میں کیس کی سماعت تک ایک سالہ پابندیوں پر عارضی حکمِ امتناع دے دیا ہے۔ملائیشیا میں فٹبال کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے، تاہم ملک آج تک فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا اور عالمی درجہ بندی میں 121ویں نمبر پر ہے، جو خطے کے حریف انڈونیشیا سے صرف ایک درجہ اوپر ہے۔
2018 میں جب حکام نے غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کو شہریت دے کر ٹیم میں شامل کرنے کا منصوبہ شروع کیا تو شائقین کو بڑی امیدیں تھیں، خاص طور پر 2022 کے قطر ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے سے قبل۔ گیمبیا میں پیدا ہونے والے محمدو سمارے نے 2018 میں قومی ٹیم کے لیے ڈیبیو کیا، جس کے بعد دیگر کھلاڑی بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ 2025 کے اختتام تک مجموعی طور پر 23 غیر ملکی فٹبالرز کو ملائیشین شہریت دی جا چکی تھی۔تاہم یہ حکمتِ عملی کامیاب نہ ہو سکی اور ملائیشیا نہ تو 2022 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر سکا اور نہ ہی رواں سال شمالی امریکا میں ہونے والے ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کر پایا۔اس سکینڈل کے بعد 3 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں عوامی غصہ اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
معروف وکیل اور رکنِ پارلیمنٹ رامکارپال سنگھ نے پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں فٹبال کی ترقی اس حد تک گر چکی ہے تو دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ اس معاملے نے ملک کی ساکھ اور نیک نامی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ماہرین اور شائقین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غیر ملکی کھلاڑیوں پر انحصار کے بجائے مقامی ٹیلنٹ کی تربیت اور فٹبال کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر توجہ دی جائے، تاکہ مستقبل میں کھیل کو درست سمت میں لے جایا جا سکے۔








