اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 2004 کے تحت نظرثانی شدہ کنٹرول لسٹس کا اجراء کر دیا ہے۔ ایکسپورٹ کنٹرول آن گڈز، ٹیکنالوجیز، مواد اور آلات جوہری اور حیاتیاتی ہتھیاروں اور ان کے ترسیلی نظام سے متعلق ایکٹ 2004 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت پاکستان نے ان اشیاءکی نظرثانی شدہ قومی کنٹرول فہرستیں جاری کر دی ہیں جن کی برآمد کےلئے وزارت …
پاکستان کا نظرثانی شدہ کنٹرول لسٹس کا اجرا، برآمدی لائسنس لازمی قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 2004 کے تحت نظرثانی شدہ کنٹرول لسٹس کا اجراء کر دیا ہے۔ ایکسپورٹ کنٹرول آن گڈز، ٹیکنالوجیز، مواد اور آلات جوہری اور حیاتیاتی ہتھیاروں اور ان کے ترسیلی نظام سے متعلق ایکٹ 2004 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت پاکستان نے ان اشیاءکی نظرثانی شدہ قومی کنٹرول فہرستیں جاری کر دی ہیں جن کی برآمد کےلئے وزارت خارجہ کے سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن سے برآمدی لائسنس درکار ہوگا۔
جمعہ کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ تازہ ترین فہرستیں گزٹ آف پاکستان میں ایس آر او 1977(I)/2025 ، 13 اکتوبر 2025ء کے تحت شائع کی جا چکی ہیں اور ویب سائٹ www.secdiv.gov.pk پر دستیاب ہیں۔ یہ کنٹرول لسٹس پہلی مرتبہ 2005ء میں جاری کی گئی تھیں جن میں بعد ازاں 2011ء، 2015ء، 2016ء، 2018ء اور 2022ء میں ترامیم کی گئیں۔
تازہ ترین نظرثانی کا مقصد نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی)، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر) اور آسٹریلیا گروپ (اے جی) کی جانب سے برقرار رکھی گئی کنٹرول لسٹس کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ نظرثانی سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن کے باقاعدہ جائزہ عمل کا حصہ ہے جو متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے مشاورت کے ساتھ انجام دیا گیا تاکہ پاکستان کے قومی کنٹرولز کو جدید، موثر اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن پاکستان کے ایکسپورٹ کنٹرول نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ذمہ دار ٹیکنالوجی رکھنے والی ریاست کے طور پر اس کے کردار کی توثیق کرتا ہے جو عدم پھیلائو کے مقاصد اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کےلئے پرعزم ہے۔








