اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں سینئر سفارتکاروں اور کمرشل قونصلرز کی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد اقتصادی سفارت کاری کا استحکام اور پاکستان اور بین الاقوامی کاروباری برادری کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانا تھا۔فورم سے خطاب کے دوران آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اقتصادی …
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں سینئر سفارتکاروں اور کمرشل قونصلرز کی گول میز کانفرنس کا انعقاد، پاکستان کی تجارت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں سینئر سفارتکاروں اور کمرشل قونصلرز کی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد اقتصادی سفارت کاری کا استحکام اور پاکستان اور بین الاقوامی کاروباری برادری کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانا تھا۔فورم سے خطاب کے دوران آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اقتصادی اصلاحات، کاروبار کرنے میں آسانی اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری کے ذریعے بڑھتے ہوئے کاروبار دوست ماحول کو پیش کرتے ہوئے پاکستان کی وسیع تجارت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش نظام پیش کرتا ہے اور متعدد شعبوں میں بڑھتے ہوئے مواقع بھی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی سی سی آئی بی ٹو بی رابطوں کو آسان بنا کر بین الاقوامی تجارتی وفود کو منظم کرنے، مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی، ریگولیٹری آسان بنانے کے لیے پالیسی سازوں کو شامل کرنے اور برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو مارکیٹ انٹیلی جنس فراہم کر کے برآمدات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی حکومت، سفارتی مشنز اور کاروباری برادری کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مواقع کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔سردار طاہر محمود نے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے، کاروباری اداروں کو ریگولیٹری فریم ورک پر رہنمائی کرنے اور ابھرتے ہوئے مواقع کی نشاندہی کرنے میں کمرشل قونصلرز اور اکنامک اتاشیز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی مشنز کے ساتھ منظم اور مسلسل روابط پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی ویلیو چینز میں ضم کرنے اور برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔
انہوں نے مختصراً اسلام آباد سسٹر سٹیز انیشی ایٹو کا حوالہ دیا جو آئی سی سی آئی کی وسیع تر اقتصادی سفارت کاری کی کوششوں کی حمایت کرنے والے پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعظم آفس ذوالفقار علی نے اپنے خطاب میں تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے وزیراعظم کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ پالیسیز وزارت تجارت شفیق احمد شہزاد نے شرکا کو بتایا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ٹیرف ریشنلائزیشن اور پالیسی ریفارمز شامل ہیں۔
یمن کے سفیر محمد مطہر الشابی، جاپان، قازقستان کے اکنامک قونصلرز، ایمبیسی ہیڈ آف چانسری ملائیشین ہائی کمیشن، سیکنڈ سیکرٹری ایمبیسی آف ویتنام، ڈپٹی ہیڈ آف مشن ایمبیسی آف آذربائیجان، کمرشل قونصلر ایمبیسی آف بیلاروس، بوسنیا کے قونصلر، سری لنکا سفارتخانے کے فرسٹ ایمبیسی قونصلر، ایران کے سفارتخانے کے فرسٹ سیکرٹری، ریسرچ قونصلر ایمبیسی آف ویتنام، جنوبی کوریا، تیونس کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز اور کرغزستان کے نمائندے نے آئی سی سی آئی کے اقدام کو سراہا اور پاکستان کو تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزاء منزل قرار دیا۔
انہوں نے مشترکہ منصوبوں اور دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے میں اپنے ممالک کی دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔شرکا سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے سفارتی امور کے کنوینر ظفر بختاوری نے مختلف ممالک کے درمیان کثیر الجہتی اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے رابطے اور پائیدار ادارہ جاتی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے سفارتی مشنز کی شرکت کو بھی سراہا اور اقتصادی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے تقریب کے میزبان کی حیثیت سے کارروائی چلائی اور شرکت کرنے والے ممالک کی تاریخی، جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے بارے میں بصیرت انگیز حوالہ جات بھی فراہم کیے جبکہ اسلام آباد سٹیز انیشیٹو کے کنوینر ساجد اقبال نے گول میز کانفرنس کا تصوراتی نوٹ پیش کیا۔
کانفرنس میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور تجارتی و صنعتی برادری کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی اور تقریب کو پاکستان کی اقتصادی سفارتکاری اور بین الاقوامی کاروباری مشغولیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔








