اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ملکی معیشت کی بہتری، نجکاری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے عزم کے تحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اہم اجلاس سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجٹ کی منظوری اور اس کے استعمال کے تفصیلی جائزہ کے علاوہ آئندہ مالی …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس، گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجٹ کی منظوری اور اس کے استعمال کے جائزہ کے علاوہ آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ پر غور
اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ملکی معیشت کی بہتری، نجکاری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے عزم کے تحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اہم اجلاس سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجٹ کی منظوری اور اس کے استعمال کے تفصیلی جائزہ کے علاوہ آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ پر بھی غور کیا گیا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی اے سی ایل کے ملازمین کی نجکاری کے بعد کی صورتحال پر بھی تفصیلی بحث کی گئی اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خدمات کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت نجکاری کے موجودہ بجٹ کے استعمال کا جائزہ لیا اور آگاہ کیا گیا کہ پرائیویٹائزیشن ڈویژن اور پرائیویٹائزیشن کمیشن دونوں محدود مالی وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں جن کا بڑا حصہ ملازمین سے متعلق اخراجات پر مشتمل ہے۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانے اور آئندہ سال نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نجی شعبہ سے ماہرین کی خدمات مسابقتی تنخواہوں پر حاصل کرنے کی غرض سے سالانہ بجٹ میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی نے نئی بھرتیوں کی ضرورت پر سوالات اٹھائے بالخصوص اس تناظر میں کہ موجودہ افرادی قوت کے ساتھ پی آئی اے سی ایل کی کامیاب نجکاری مکمل کی جا چکی ہے۔ اس پر کمیشن نے وضاحت کی کہ خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین ناگزیر ہیں کیونکہ ایک ماہر بیک وقت زیادہ سے زیادہ دو نجکاری منصوبے ہی سنبھال سکتا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ خاص طور پر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے شعبہ جاتی مہارت بے حد ضروری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اصولی طور پر ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا تاکہ ادارے کی عملی استعداد میں اضافہ ہو سکے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وزارت نجکاری کے تحت اس وقت کوئی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) منصوبہ جاری نہیں، اس لیے پی ایس ڈی پی کے لیے کسی فنڈ کی ضرورت نہیں ہے۔
اجلاس کے دوران پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کے عمل پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس حوالے سے مختلف پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ نجکاری کا مکمل عمل 90 سے 120 دن کے اندر مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (HOLDCO) کی جائیدادوں سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کیں جن میں ہینگرز کی مجموعی تعداد، سپیئر پارٹس اور دیگر تکنیکی اثاثے شامل ہیں۔
سیکرٹری نجکاری کمیشن نے یقین دہانی کروائی کہ آئندہ اجلاس میں مطلوبہ معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر افنان اللہ خان نے وزارت نجکاری و پرائیویٹائزیشن کمیشن کو پی آئی اے کی کامیاب نجکاری پر خراج تحسین پیش کیا۔کمیٹی کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ سائیڈ سروسز کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
اراکین نے مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات خصوصاً خوراک کی خدمات اور واش رومز کی ابتر حالت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آئوٹ سورسنگ کے ذریعے سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے کیونکہ حکومتیں تجارتی سرگرمیوں کے براہ راست انتظام کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن نے آگاہ کیا کہ ایئرپورٹ خدمات کی آئوٹ سورسنگ ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ بڑے ایئرپورٹس پر آئوٹ سورسنگ کے عمل کو کوئٹہ اور سکھر جیسے چھوٹے ایئرپورٹس کے ساتھ یکجا کیا جائے تاکہ ملک بھر میں سہولیات میں یکساں بہتری ممکن ہو، بجائے اس کے کہ بعد میں وسائل کی دوبارہ تقسیم کی جائے۔
چیئرمین کمیٹی نے کمیشن کو عمل تیز کرنے کی ہدایت کی اور ایئرپورٹ سہولیات و خدمات کی بہتری کے لیے کمیٹی کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے آئوٹ سورسنگ کے دوران مسافروں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کے علاوہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔









