اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)پاکستان اور برٹش کونسل نے ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مقصد پاکستان میں تحقیق کے معیار، ماحول اور سماجی و معاشی اثرات کو عالمی سطح کے مطابق بنانا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق یونیورسٹی آف سسیکس کے اشتراک سے ایک تفصیلی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں عالمی بہترین طریقہ کار کا گہرائی …
ایچ ای سی اور برٹش کونسل نے ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کو حتمی شکل دیدی
اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)پاکستان اور برٹش کونسل نے ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مقصد پاکستان میں تحقیق کے معیار، ماحول اور سماجی و معاشی اثرات کو عالمی سطح کے مطابق بنانا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق یونیورسٹی آف سسیکس کے اشتراک سے ایک تفصیلی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں عالمی بہترین طریقہ کار کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔
اس اقدام کے تحت ایچ ای سی تحقیق کو صرف اشاعتی مقالہ جات تک محدود رکھنے کی بجائے اس کے حقیقی سماجی اور معاشی فوائد کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کے تحت ابتدائی مرحلے میں ملک کی 10 منتخب جامعات میں پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا جہاں تحقیق کے معیار، تحقیقی ماحول اور تحقیق کے عملی اثرات کا جامع انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔ اس فریم ورک کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری فنڈز سے ہونے والی تحقیق قومی ترقی اور عوامی فلاح میں مؤثر کردار ادا کرے۔
ایچ ای سی اور برٹش کونسل کے حکام نے کہا کہ یہ اقدام پاک-برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کے تحت ایک اہم سنگ میل ہے جو پاکستان کی جامعات میں تحقیق کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک نہ صرف تحقیق کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ پالیسی سازی، صنعت، اور سماجی ترقی میں تحقیق کے کردار کو بھی مضبوط کرے گا جس سے پاکستان عالمی تحقیقاتی منظرنامے میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے گا۔









