قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا ریگولیٹری خامیوں اور طبی تعلیم و مریضوں کی فلاح سے متعلق پالیسی مسائل کا جائزہ

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ (NHSR&C) نے جمعہ کے روز صحتِ عامہ کو درپیش سنگین چیلنجز، نجی صحت کے شعبے میں ریگولیٹری خامیوں اور طبی تعلیم و مریضوں کی فلاح سے متعلق پالیسی مسائل کا جائزہ لیا۔اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی۔کمیٹی نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے تقریباً تین …

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ (NHSR&C) نے جمعہ کے روز صحتِ عامہ کو درپیش سنگین چیلنجز، نجی صحت کے شعبے میں ریگولیٹری خامیوں اور طبی تعلیم و مریضوں کی فلاح سے متعلق پالیسی مسائل کا جائزہ لیا۔اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی۔کمیٹی نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے تقریباً تین لاکھ رپورٹ شدہ کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن میں سے 87 ہزار کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ صرف 34 ہزار مریض اس وقت علاج حاصل کر رہے ہیں۔

اراکین نے ایچ آئی وی کے ہاٹ اسپاٹس اور ریڈ زونز کی نشاندہی نہ ہونے اور خصوصاً سندھ سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ایچ آئی وی سے متاثرہ نومولود بچوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر وضاحت کرے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ نومولود بچوں سے متعلق رپورٹس حقائق پر مبنی ہیں یا غلط معلومات اور اس ضمن میں رینڈم ٹیسٹنگ، حفاظتی اقدامات اور ملک گیر آگاہی مہمات کی ضرورت پر زور دیا۔

اراکین نے نجی طبی مراکز میں غیر محفوظ انجکشن کے طریقوں، سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور غیر ضروری انجکشن لگانے پر بھی تشویش ظاہر کی اور جہاں ممکن ہو زبانی ادویات کے استعمال کی سفارش کی۔ وزارت نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں بدنامی، آگاہی کا فقدان اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کو قرار دیا۔کمیٹی نے بیماریوں کے بوجھ اور علاج کے اخراجات کم کرنے کے لیے لائف اسٹائل میڈیسن، احتیاطی تدابیر، عوامی آگاہی اور مضبوط ریگولیٹری نگرانی کے فروغ پر زور دیا۔ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی مدتِ افادیت، خالی نشستوں اور سیٹ شفٹنگ کے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بتایا کہ موجودہ سیشن کے لیے باقی ماندہ نشستیں پُر کرنے کا ایک موقع موجود ہے، تاہم اراکین نے خالی نشستوں کی تعداد پر اختلاف کیا۔ پی ایم ڈی سی نے گزشتہ برسوں کے طلبہ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے 10 فیصد اضافی کوٹہ تجویز کیا اور یقین دہانی کرائی کہ سیٹ شفٹنگ کے بعد بچنے والی نشستیں کونسل کی منظوری سے پُر کی جائیں گی۔ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ واضح اور مستقل پالیسی پیشگی مرتب کرے، ایم ڈی کیٹ کی مدتِ افادیت سے متعلق قواعد میں ترمیم کرے اور مشکل امتحانی پیٹرن اور بار بار خالی نشستوں کے مسائل کا مستقل حل نکالے۔

چیئرمین نے پی ایم ڈی سی پر زور دیا کہ کونسل کی سطح پر فوری فیصلہ کیا جائے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس 2025 کو آئندہ اجلاس میں تفصیل سے زیرِ غور لایا جائے گا۔ وزارت کو ہدایت کی گئی کہ تین دن کے اندر نئے آرڈیننس اور سابقہ پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ 2023 کا تقابلی جائزہ، کونسل ممبران کے سرکاری نوٹیفکیشن کی تفصیلات سمیت، جمع کرائے۔ اراکین نے آئندہ اجلاسوں میں ماہرین کی رائے اور نجی شعبے کی نمائندگی شامل کرنے پر بھی زور دیا۔کمیٹی نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ 2018 میں قیام کے باوجود اسلام آباد میں کوئی بھی نجی ہسپتال یا ڈسپنسری درست لائسنس کی حامل نہیں ہے۔

اراکین نے لائسنسنگ فریم ورک کی عدم تکمیل، پیش رفت رپورٹس کے فقدان، کمزور معائنہ نظام اور نجی ہسپتالوں کی جانب سے سماجی فلاحی ذمہ داریوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے مسائل کی نشاندہی کی۔ نجی ہسپتالوں میں غیر منظم فیسوں، فری علاج کی عدم فراہمی، بلوں کی عدم ادائیگی پر مریضوں اور طبی فضلے کے ناقص انتظام، غیر قانونی کلینکس، غیر محفوظ اسقاط حمل اور فارمیسیوں میں بغیر نسخے ادویات کی فروخت پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ بعض اراکین نے آئی ایچ آر اے کی انسپیکشن ٹیموں پر ہراسانی اور اتھارٹی کے بورڈ میں مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات بھی عائد کیے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال، فاروق ہسپتال، کلثوم ہسپتال اور قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال سمیت نجی ہسپتالوں نے اپنا مؤقف پیش کیا۔ فاروق ہسپتال کو 35 فیصد فلاحی علاج اور صحت سہولت پروگرام کے تحت مریضوں کے علاج پر سراہا گیا۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے سماجی فلاحی ذمہ داریوں کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی اور گزشتہ ایک سال کے فلاحی اعدادوشمار جمع کرانے کی ہدایت دی گئی۔

آئی ایچ آر اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس کے سی ای او نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے، انسپیکشن ٹیموں کی تعداد 12 سے بڑھا کر 26 کر دی گئی ہے، رجسٹریشن بورڈ قائم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اجلاس سے قبل آن لائن لائسنسنگ کا نظام فعال ہو جائے گا۔کمیٹی نے آئی ایچ آر اے کو ایک ماہ کی مہلت دی کہ وہ تمام مکمل لائسنس درخواستوں پر کارروائی کرے، اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں کی سخت نگرانی یقینی بنائے اور ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور فارمیسیوں میں نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کروائے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ تدریسی سہولیات فراہم کرنے والے تمام نجی ہسپتال صحت سہولت کارڈ کو اپنائیں، جان بچانے والے علاج کو ترجیح دی جائے اور ہنگامی طبی امداد سے انکار کو آئی ایچ آر اے ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جائے۔

اجلاس میں کمیٹی نے نیپا وائرس اور سرحد پار صحت خدمات سے متعلق معیاری عملی طریقہ کار (SOPs) پر وزارت سے تفصیلات طلب کیں، بالخصوص تیاری اور رابطہ کاری کے نظام پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے منکی پاکس سے دو اموات کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ انسدادی، نگرانی اور تدارکی اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کرے۔