آرگینک زراعت زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے ،پانی کی آلودگی ، کاربن اخراج میں کمی لاتی ہے، نجم مزاری

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ایک نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہاہے کہ دنیا بھر میں صحت کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور کیمیائی اجزا ء کے نقصانات کے باعث آرگینک خوراک اور مصنوعات تیزی سے عوام کی پہلی ترجیح بنتی جا رہی ہیں، عالمی سطح پر جاری تحقیقی رپورٹس کے مطابق آرگینک خوراک مارکیٹ نے گزشتہ ایک دہائی …

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ایک نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہاہے کہ دنیا بھر میں صحت کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور کیمیائی اجزا ء کے نقصانات کے باعث آرگینک خوراک اور مصنوعات تیزی سے عوام کی پہلی ترجیح بنتی جا رہی ہیں، عالمی سطح پر جاری تحقیقی رپورٹس کے مطابق آرگینک خوراک مارکیٹ نے گزشتہ ایک دہائی میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور2025میں عالمی آرگینک خوراک کی مارکیٹ کا حجم 230سے 240ارب ڈالر کے درمیان رہا جبکہ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2033تک آرگینک خوراک کی مارکیٹ 600ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ہفتہ کو اپنےبیان میں انہوں نے کہا کہ تحقیقی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں تقریباً 65سے 70فیصد صارفین اب خریداری کے وقت کیمیکل فری اور نیچرل لیبل کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ہر دوسرا صارف ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر آرگینک سبزیاں، پھل یا دیگر مصنوعات خرید رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان نسل اس رجحان میں سب سے آگے ہے، جہاں 18سے 35سال کی عمر کے افراد آرگینک مصنوعات کے سب سے بڑے خریدار بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرگینک مارکیٹ میں سبزیوں، پھلوں، دودھ، شہد اور اناج کا حصہ سب سے نمایاں ہے اور پاکستان ان سب مصنوعات کی برآمدات کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے لئے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آرگینک پھل اور سبزیاں ہی مجموعی مارکیٹ کا تقریباً 40فیصد حصہ رکھتی ہیں جبکہ آئندہ سالوں میں آرگینک دودھ اور بچوں کی خوراک میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 95سے 100ملین ہیکٹر زمین پر آرگینک فارمنگ کی جا رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔آرگینک زراعت نہ صرف زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتی ہے بلکہ پانی کی آلودگی اور کاربن اخراج میں بھی کمی لاتی ہے۔