اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):اردو کے ممتاز قادرالکلام شاعر، صوفی اور سینکڑوں شاگردوں کے استاد سیماب اکبرآبادی کی برسی 31 جنوری کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا اور وہ 5 جون 1882 کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد محمّد حسین صدیقی بھی شاعر تھے اور ٹائمز آف انڈیا پریس میں ملازم تھے۔سیماب اکبرآبادی نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال الدین سرحدی اور …
اردو کے ممتاز قادرالکلام شاعر، صوفی ،سینکڑوں شاگردوں کے استاد سیماب اکبرآبادی کی برسی ہفتہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):اردو کے ممتاز قادرالکلام شاعر، صوفی اور سینکڑوں شاگردوں کے استاد سیماب اکبرآبادی کی برسی 31 جنوری کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا اور وہ 5 جون 1882 کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد محمّد حسین صدیقی بھی شاعر تھے اور ٹائمز آف انڈیا پریس میں ملازم تھے۔سیماب اکبرآبادی نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال الدین سرحدی اور رشید احمد گنگوہی سے حاصل کی۔
اجمیر سے میٹرک کیا۔ 1897 میں 17 سال کی عمر میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے ایف اے کے آخری سال میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔1898 میں ملازمت کے سلسلے میں کان پور گئے اور وہیں فصیح الملک داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے۔ 1921 میں ریلوے کی ملازمت چھوڑ کر آگرہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور قصرِ ادب کے نام سے ادبی ادارہ قائم کیا۔ ملازمت کے دوران ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین اور آگرہ اخبار کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔سیماب اکبرآبادی کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مجموعے بھی شامل ہیں ۔
سیماب اکبرآبادی 1949 میں پاکستان منتقل ہو گئے۔انہوں نے مولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور منتقل کر دیا۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں ترجمہ کا نام الہام منظوم رکھا ۔
سیماب اکبرآبادی نے ہندووں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے کچھ حصوں کا منظوم ترجمہ کرشن کیتا کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔سیماب اکبرآبادی نے 1944 کے شروع میں قرآن مجید کا منظوم ترجمہ کرنے کا ارادہ کیا اور10 ماہ میں منظوم ترجمہ مکمل کر کے علما کی خدمت میں پیش کر دیا۔ قرآن مجید کا یہ منظوم اردو ترجمہ "وحی منظوم” کے نام سے مشہور ہوا۔
1981 کو اسلام آباد میں پندرہویں صدی ہجری کے سلسلہِ تقسیم انعامات میں قرآن پاک کے چار مختلف زبانوں کی کتابوں کو انعام سے نوازا گیا جن میں وحی منظوم سرفہرست تھی۔سیماب اکبرآبادی نے 1950 میں شیخ عنایت اللہ کی درخواست پر سیرت نبی ﷺپر مختصر اور انتہائی جامع کتاب ڈیڑھ ماہ کے مختصر عرصے میں جدید اسلوب اور دلنشین پیرائے میں تحریر کی۔ سیماب اکبرآبادی نے 1892 سے شعر گوئی کا آغاز کر دیا اور 1898 میں مرزا خان داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے ۔ان کا پہلا مجموعہِ کلام "نیستاں” 1923 میں جبکہ 1936 میں دیوان کلیم عجم شائع ہوا اور اسی سال نظموں کا مجموعہ کار امروز منظر عام پر آیا۔
سیماب اکبرآبادی کے تقریباً 2500 شاگرد تھے جن میں راز چاندپوری، ساغر نظامی، ضیاء فتح آبادی، بسمل سیدی، الطاف مشہدی اور شفا گوالیوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کو "تاج الشعرا”، "ناخدائے سخن” کے خطابات سے بھی نوازا گیا۔ سیماب اکبرآبادی31 جنوری 1951 کو کراچی میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔








