آئی آر ایس کا اسرائیل–غزہ تنازع اور علاقائی امن کے امکانات پر ویبینار

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) نے ’’اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ اور علاقائی امن کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے ایک ماہرین پر مشتمل ویبینار منعقد کیا، جس میں غزہ تنازع کی بدلتی ہوئی صورتحال، 20 نکاتی امریکی امن فریم ورک اور علاقائی و عالمی فریقین کو درپیش سفارتی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔دوحہ انسٹیٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز پروگرام …

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) نے ’’اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ اور علاقائی امن کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے ایک ماہرین پر مشتمل ویبینار منعقد کیا، جس میں غزہ تنازع کی بدلتی ہوئی صورتحال، 20 نکاتی امریکی امن فریم ورک اور علاقائی و عالمی فریقین کو درپیش سفارتی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔دوحہ انسٹیٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز پروگرام کے وزٹنگ پروفیسر ڈاکٹر محجوب زویری نے کلیدی خطاب کیا۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے آئی آر ایس کے صدر سفیر جوہر سلیم نے 20 نکاتی اقوام متحدہ کے مینڈیٹ یافتہ امن فریم ورک کو محدود متبادل کی موجودگی میں ایک ممکنہ راستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ جنگ بندی سے جزوی استحکام پیدا ہوا ہے تاہم اس کےدوسرے مرحلے میں منتقلی کے دوران سنگین سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹوں کا سامنا متوقع ہے۔

سفیر جوہر سلیم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس فریم ورک میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوئی واضح اور قابلِ اعتماد روڈ میپ شامل نہیں حالانکہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری ہیں۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر زویری نے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے تناظر میں غزہ میں پائیدار امن کےامکانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔انہوں نے جنگ بندی کے بعد بحالی کے عمل کو متاثر کرنے والی متعدد ساختی اور سیاسی رکاوٹوں کی نشاندہی کی جن میں بین الاقوامی اور مقامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندیاں اور امن فریم ورک کی متفقہ شقوں پر عمل درآمد میں تاخیر شامل ہے۔

ڈاکٹر زویری کے مطابق اس تاخیرنے منصوبے کے پہلے مرحلےجوبنیادی طور پر یرغمالیوں کی رہائی پر مرکوز تھاسے دوسرے مرحلے میں منتقلی کو پیچیدہ بنا دیا ہے جس کا مقصد طویل المدتی استحکام اور حکمرانی کے انتظامات کو طے کرنا ہے۔گفتگو میں سفارتی نتائج کی تشکیل میں علاقائی کرداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر زویری نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان جیسے ممالک کی شمولیت غزہ کے مستقبل پر بات چیت،بالخصوص تعمیرِ نو اور تنازع کے بعد حکمرانی کے حوالے سے وسیع تر بین الاقوامی شرکت میں معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔

ان کے مطابق سفارتی فریقین کے دائرہ کار کو وسعت دینے سے غزہ سے متعلق فیصلوں میں محدود اثر و رسوخ کے تاثر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے،انسانی ہمدردی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زویری نے مسلسل امدادی ترسیل کو سکیورٹی اور استحکام کا لازمی جزو قرار دیا۔

انہوں نے ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن کے مطابق اکتوبر 2025 میں تصدیق شدہ جنگ بندی معاہدے کے تحت طے شدہ سطح کے مقابلے میں غزہ تک انسانی امداد کی رسائی بدستور کم رہی ہے۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانی امداد کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا جنگ بندی کے تسلسل اور طویل المدتی امن کے لیے نہایت اہم ہے ۔ ویبینار کا اختتام جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے علاقائی استحکام پر اثرات اور پائیدار سیاسی تصفیے کے لیے کثیرالجہتی سفارتکاری کے کردار پر بحث کے ساتھ ہوا۔