پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔1فروری (اے پی پی):بورڈ آف انڈسٹریل کولیبوریشن ٹو اینہانس فیشن ایکسپورٹس (BICEFE) کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اب اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ وہ دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ اتوار کو لاہور میں "قابلِ تجدید توانائی کے قومی معیشت پر اثرات" کے موضوع پر …

لاہور۔1فروری (اے پی پی):بورڈ آف انڈسٹریل کولیبوریشن ٹو اینہانس فیشن ایکسپورٹس (BICEFE) کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اب اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ وہ دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ اتوار کو لاہور میں "قابلِ تجدید توانائی کے قومی معیشت پر اثرات” کے موضوع پر سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے بتایا کہ گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ میں قابلِ تجدید توانائی کا عالمی بجلی پیداوار میں حصہ بڑھ کر 34.3 فیصد تک پہنچ گیا اور کوئلے کا حصہ کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا جبکہ گیس 23 فیصد کی سطح برقرار رہی۔

انہوں نے کہاکہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ شمسی اور ہوا سے چلنے والے پاور پلانٹس نے مجموعی طور پر کوئلے سے زیادہ بجلی پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں یہ نمایاں اضافہ فوسل فیولز سے دوری کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ فوسل فیولز ہی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا سبب ہیں،جو ماحولیاتی تبدیلی کو تیز کر رہی ہیں۔ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے بتایا کہ گزشتہ سال کے پہلے نصف میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ 31 فیصد اضافہ ہوا، جو ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کے 7.7 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ تھا۔

اس دوران کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 0.6 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ عالمی سطح پر گیس سے بجلی کی پیداوار میں معمولی 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں صنعتی یونٹس تیزی سے شمسی توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں اور گھریلو صارفین کی بڑی تعداد بھی سولر انرجی کو اپنا رہی ہے، یہ رجحان ماحولیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جسے پوری طرح فروغ دینے کی ضرورت ہے۔