سیالکوٹ۔1فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں بارہ مختلف مقامات پر کی گئی دہشت گردی اور خونریزی کی بھرپور کوششیں مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی ہیں۔ اللہ کے فضل سے اس وقت بلوچستان کے طول و عرض میں امن قائم ہے اور سکیورٹی فورسز دشمن عناصر کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے آپریشن میں مصروف ہیں۔ اتوار کو وفاقی …
بلوچستان میں کوآرڈینیٹڈ دہشت گرد حملے ناکام، امن بحال، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے،وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
سیالکوٹ۔1فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں بارہ مختلف مقامات پر کی گئی دہشت گردی اور خونریزی کی بھرپور کوششیں مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی ہیں۔ اللہ کے فضل سے اس وقت بلوچستان کے طول و عرض میں امن قائم ہے اور سکیورٹی فورسز دشمن عناصر کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے آپریشن میں مصروف ہیں۔
اتوار کو وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوآرڈینیٹڈ حملے بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کی ناکام کوشش تھیں۔ہم نے گزشتہ دو سال محنت کرکے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور ملک کو معاشی تباہی کی طرف دھکیلنا تھا، تاہم دشمن اپنے عزائم میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے بنیادی طور پر ہندوستان کی پراکسی ہے اور ہندوستان و بی ایل اے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات اور گرفتار دہشت گردوں کے اعترافی بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام سرگرمیوں کے تانے بانے ہندوستان سے ملتے ہیں۔ بی ایل اے ایک عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیم ہے جس پر پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پر پابندی عائد ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم اب خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کر رہی ہے۔ کراچی میں ناکام خودکش حملہ آور بچی اور پسنی میں نوجوان لڑکی کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معصوم ذہنوں کو باقاعدہ طور پر انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
غربت، بے روزگاری اور معاشی مسائل سے دوچار افراد کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نوشکی اور دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً بارہ مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام اہداف کو ناکام بنایا۔ ان کارروائیوں میں گیارہ سکیورٹی فورسسزکے جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ گزشتہ دو دنوں میں سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے اور تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان کا رقبہ وسیع اور آبادی کم ہونے کے باعث دہشت گردوں کو عارضی فائدہ ملتا رہا، تاہم آنے والے دنوں میں یہ سہولت بھی ختم کر دی جائے گی۔ افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی قیادت معصوم نوجوانوں کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ پاکستان بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور ملک کے کسی حصے میں ان تنظیموں کے لیے کسی قسم کی ہمدردی یا نرم رویے کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردی میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں وہی انجام پہنچایا جائے گا جو دہشت گردوں کا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں کمی آئی تھی، تاہم اب دہشت گردوں کے زیادہ مؤثر اہداف کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے۔سرحد کے اندر یا باہر، جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوں، پاکستان اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرے گا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج صبح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور پوری قوم کے ساتھ اپنی آواز کو ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہے۔ شہداء کی قربانی ہر صوبے کے بیٹوں اور بیٹیوں کا مظہر ہے، جو مٹی اور وطن کے ساتھ اپنے عہد کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی سیاسی مفاد یا جماعتی وابستگی نہیں، بلکہ وفاداری صرف وطن اور مٹی کے لیے ہے۔







