سال 2025 کے دوران اسلام آباد پولیس کا سیفٹی سکور 68.6 فیصد رہا، جرائم میں 23 فیصد کمی ہوئی،جسٹس کمیٹی رپورٹ

اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):اسلام آباد پولیس کا گزشتہ سال 2025 کے دوران پبلک سیفٹی سکور 68.6 فیصد جبکہ جرائم میں مجموعی طور پر 23 فیصد کمی ہوئی ہے اور امن و امان میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ پولیس فورس کی جانب سے جسٹس کمیٹی کے سامنے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ پولیس ترجمان نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس …

اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):اسلام آباد پولیس کا گزشتہ سال 2025 کے دوران پبلک سیفٹی سکور 68.6 فیصد جبکہ جرائم میں مجموعی طور پر 23 فیصد کمی ہوئی ہے اور امن و امان میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ پولیس فورس کی جانب سے جسٹس کمیٹی کے سامنے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ پولیس ترجمان نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی سربراہی میں آئی سی ٹی پولیس نے ایک جامع جائزہ پیش کیا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی، عوامی سہولت اور جدید پولیسنگ میں اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر جرائم میں 23 فیصد کمی آئی ہے جب کہ ایمرجنسی ہیلپ لائن "Pucar-15” پر موصول ہونے والی جرائم سے متعلق کالز میں 32 فیصد کمی آئی ہے جو پولیسنگ میں بہتری اور عوام کے اعتماد میں اضافہ کی عکاسی کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیسنگ کی موثر حکمت عملی اور رہائشی اور تجارتی علاقوں میں چوبیس گھنٹے گشت کی وجہ سے اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیاں اور معمولات زندگی آسانی سے جاری رہے۔2025 کے دوران اسلام آباد پولیس نے 1,552 عدالتی مفرور، 2,062 اشتہاری اور 990 عادی مجرموں کو گرفتار کیا۔

1,594 مقدمات میں پولیس نے 1,395 ملزمان کو گرفتار کیا اور 536 ملین روپے کی مسروقہ اشیا بھی برآمد کیں۔اسی طرح غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائیوں میں 2,375 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور 2,336 مقدمات درج کیے گئے، بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔ اسی طرح انسداد منشیات کی کارروائیوں میں 1889 مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں چرس، ہیروئن، آئس، افیون اور شراب برآمد کی گئی۔رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دہشت گردی، قتل، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد ہائی پروفائل کیسز کامیابی سے حل کیے گئے، ملزمان کو گرفتار کرکے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے۔

انفراسٹرکچر کے حوالے سے بتایا گیا کہ فیڈرل جیل اسلام آباد کا 76 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور 2026 میں جیل مکمل طور پر فعال ہونے کی امید ہے۔ پہلے سپرنٹنڈنٹ آف جیل خانہ جات کی تعیناتی ہو چکی ہے۔رپورٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا گیا ہے جس میں AI پر مبنی سافٹ ویئر، ڈیجیٹل سرویلنس، CDR تجزیہ، ہوٹل آئی، ٹریول آئی، کرایہ داروں کے رجسٹریشن کے نظام اور خصوصی تلاشی آپریشن شامل ہیں۔ نمبر پلیٹ اور چہرے کی شناخت کرنے والے کیمروں سے لیس خودکار چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو جسم پر پہننے والے کیمرے اور جدید وائرلیس سسٹم فراہم کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد کے اے آئی پر مبنی نظام، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز اور ڈیٹا کے تجزیے کی وجہ سے شناخت شدہ ہاٹ سپاٹ پر جرائم میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی۔ پبلک سیفٹی انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد نے 68.6 فیصد سیفٹی سکور حاصل کیا، جو اسے محفوظ ترین شہروں میں کی گئی درجہ بندی کے حوالہ سے بڑے عالمی شہروں لندن، نیویارک اور پیرس سے آگے ہے۔

سال کے دوران، اسلام آباد پولیس نے قومی اور بین الاقوامی وفود، پارلیمانی اجلاسوں، احتجاجی مظاہروں اور ہزاروں عوامی تقریبات کے ساتھ ساتھ 351 وی وی آئی پی موومنٹ کے لیے سیکورٹی کو یقینی بنایا۔13 جدید خدمت مراکز نے 739,621 شہریوں کو خدمات فراہم کیں جبکہ آن لائن خواتین پولیس اسٹیشن 24/7 فعال رہے۔جسٹس کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ فورس کے عوامی تحفظ، جدید پولیسنگ اور وفاقی دارالحکومت میں قانون کی حکمرانی کے عزم کا واضح عکاس ہے۔