اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عالمگیر چوہدری نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کی مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں موثر انسانی سرمائے کے انتظام کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ایس ایم ایز کے شعبہ میں ہیومن کیپیٹل مینجمنٹ" کے موضوع پر چار روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کے اختتامی …
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کی مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کیلئے موثر انسانی سرمائے کے انتظام کی ضرورت ہے،چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن محمد عالمگیر چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عالمگیر چوہدری نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کی مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں موثر انسانی سرمائے کے انتظام کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ایس ایم ایز کے شعبہ میں ہیومن کیپیٹل مینجمنٹ” کے موضوع پر چار روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این پی اوچھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ٹارگٹڈ صلاحیت سازی کے اقدامات، پالیسی وکالت اور ایشیائی پیداواری تنظیم (APO) جاپان کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
این پی او کے اعلامیہ کے مطابق ورکشاپ میں پالیسی سازوں ، پیداواری صلاحیتوں کے ماہرین، صنعت کے نمائندوں اور بین الاقوامی شرکاء ایس ایم ایز کے شعبہ میں انسانی سرمائے کی ترقی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔شرکاء کی جانب سے ووٹ آف تھینکس فلپائن کے ڈاکٹر انتھونی سنکو سیلز نے پیش کیا اور انہوں نے این پی او پاکستان، اے پی او جاپان، ریسورس پرسنز اور منتظمین کو پروگرام میں دلچسپی کو سراہا۔
ممبر این پی او بورڈ آف ڈائریکٹرز صاحبزادی ماہین خان نے ورکشاپ کے کامیاب انعقاد کے لیے اے پی او جاپان، مہمان خصوصی، ریسورس پرسنز، شرکاء اور آرگنائزنگ ٹیم کے گراں قدر تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے این پی او کی جانب سے اظہار تشکر کیا۔اس موقع پر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف نے صنعتی ترقی کو برقرار رکھنے میں ہنر مند اور متحرک انسانی سرمائے کے اہم کردار پر زور دیا۔انہوں نے اس اقدام کو سراہا اور سیکھنے کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے پیداواری تنظیموں اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔







