اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):انصاف کا اندازہ صرف فیصلوں میں لکھے گئے الفاظ سے نہیں ہوتا ، غیر یقینی کے لمحات میں محسوس کیا جاتا ہے، یہ پریشان کن راہداریوں میں ایسے افراد کیلئے امید ہے جو رہنمائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی سہولت مرکز اسلام آباد قائم کر کے عوام …
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی سہولت مرکز اسلام آباد قائم کر کے عوام کو انصاف کے مزید قریب کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):انصاف کا اندازہ صرف فیصلوں میں لکھے گئے الفاظ سے نہیں ہوتا ، غیر یقینی کے لمحات میں محسوس کیا جاتا ہے، یہ پریشان کن راہداریوں میں ایسے افراد کیلئے امید ہے جو رہنمائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی سہولت مرکز اسلام آباد قائم کر کے عوام کو انصاف کے مزید قریب کر دیا۔ سہولت مرکز کو ایک چھت تلے معیاری اور شفاف حل فراہم کرنے کے لیے ایک ونڈو آپریشن کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چہرے کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ، ادارے اور عوام کے درمیان بنیادی راستے کے طور پر یہ سہولت مرکز رسائی، وضاحت اور عدالتی عمل کی منظم سہولت کے لیے ادارہ جاتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔عوامی سہولت مرکز پر کاپی اور انفارمیشن کاؤنٹر اور انسٹی ٹیوشن ڈیسک کو مربوط کیا گیا ہے جو ایک پلیٹ فارم کے ذریعے 30 سے زیادہ معیاری خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان میں CMAs، تازہ مقدمات ، جلد سماعت کی درخواستیں، کیس کی معلومات، مصدقہ کاپیاں، فائل کا معائنہ، وکیل سے متعلقہ معاملات، اعتراضات کو دور کرنااور دیگر متعلقہ سہولیات بھی شامل ہیں۔
متعدد پوائنٹس کے ذریعے خدمات کی فراہمی سے یہ سہولت مرکز دفتر وں کے غیر ضروری چکروں کو کم کرتا ہے اور عدالت کے ساتھ روابط میں بھی آسانیاں فراہم کرتا ہے۔جنوری کے دوران عوامی سہولت مرکز انصاف تک رسائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا، اس مہینے کے دوران مرکز نے مختلف خدمات کے حصول کے لیے 6721 وزیٹرز کو سہولت فراہم کیں۔ کل 1267 نئے کیسز سامنے آئے جن میں 317 سی ایم ایز بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ 195 قبل از وقت سماعت کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 125 مقدمات کو بعد میں طے کیا گیا۔
مرکز کو تصدیق شدہ کاپیوں کے لیے 1415 درخواستیں بھی موصول ہوئیں جن میں سے 1311 سے جاری کی گئیں۔اس کے علاوہ عوامی سہولت مرکز سے مدعی کو مناسب رہنمائی کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کو ایک قابل احترام، قابل رسائی اور جامع ماحول بھی ملتا ہے۔
عوامی سہولت مرکز صرف ایک سروس ڈیسک ہی نہیں ہے بلکہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان کے اس وژن کی علامت بھی ہے کہ انصاف صرف کمرہ عدالتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمدردی اور احترام کے ساتھ انصاف کی سہولت فراہم کی جانی چاہئے کیونکہ انصاف کی فراہمی ہی نہیں بلکہ سہولت بھی ہونی چاہیے۔







