اسلام آباد۔ 01 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم محمد بخش عرف شہزیب کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اس کی جیل اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اطلاع دینے والے کی جانب سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی، جس کا فائدہ ملزم کو نہیں …
سپریم کورٹ نے ایف آئی آر میں تاخیر پولیس کی غفلت قرار دیتے ہوئے ملزم کی عمر قیدکی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 01 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم محمد بخش عرف شہزیب کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اس کی جیل اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اطلاع دینے والے کی جانب سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی، جس کا فائدہ ملزم کو نہیں دیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے نے فوجداری پٹیشن نمبر 1021 آف 2021 کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
عدالت نے کہا کہ واقعہ 10 اگست 2017 کو رات 10 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا، جب مقتول محمد عباس نماز عشاء کی ادائیگی کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ ملزم نے انہیں فائرنگ کر کے شدید زخمی کیا۔ مقتول کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
عدالت نے روزنامچہ (Roznamcha) کے مطابق اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی تھی، تاہم پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کی یہ غفلت اطلاع دینے والے کی قانونی ذمہ داری پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔فیصلے میں عدالت نے عینی شاہدین کے بیانات اور طبی شواہد کو باہم ہم آہنگ قرار دیا اور معمولی تضادات کو مقدمے کی بنیاد کو متاثر نہ کرنے والا قرار دیا۔
ملزم سے برآمد ہونے والا 9 ایم ایم پستول فرانزک رپورٹ کے مطابق واردات میں استعمال ہوا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مقتول اور ملزم کے درمیان رشتہ داری کے باعث غلط شناخت یا جھوٹے الزام کا امکان پیدا نہیں ہوتا۔عدالت نے پولیس اور عدالتی کارروائیوں میں اصطلاحات اطلاع دینےوالا (Informant) اور شکایت کنندہ (Complainant) کے غلط استعمال پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج کروانے والا قانونی طور پر صرف اطلاع دینے والا ہے نہ کہ شکایت کنندہ کیونکہ شکایت صرف مجسٹریٹ کے روبرو دائر کی جاتی ہے۔
عدالت نے سندھ میں پولیس دستاویزات میں مستعمل لفظ فریادی اور دیگر صوبوں میں استعمال ہونے والا لفظ مدعی کو بھی قانونی طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ الفاظ شہری کو محتاجِ رحم ظاہر کرتے ہیں حالانکہ شہری ریاستی اداروں سے بطور حق رجوع کرتا ہے۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی عمر قید کی سزا قانونی طور پر مستحکم قرار دی۔







