پشاور۔ 02 فروری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے کہ وزیراعظم سےملاقات بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا،خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلے انہوں نے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی، وزیراعظم سے دہشت گردی …
خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

مزید خبریں
پشاور۔ 02 فروری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے کہ وزیراعظم سےملاقات بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا،خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔
میڈیا سے بات چیت کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلے انہوں نے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی، وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون پر گفتگو کی، صوبے کیلئےاین ایف سی،این ایچ پی اور صوبے کے بقایا جات پر بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سےدہشتگردی پر مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کرچکی ہے، دہشتگردوں کا کوئی صوبہ ،ملک اورنہ کوئی مذہب ہوتا ہے۔ دہشتگردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے۔ ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کرتے رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، وزیراعظم سے کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ جو قربانی دے رہے ہیں اس کے سامنے یہ 4ارب روپے کچھ بھی نہیں، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔
قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا ۔







