اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):صدر پاکستان سوسائٹی آف نیفرالوجی ،معروف ماہر امراض گردہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد نبی نے کہا ہےپاکستان کا معاشی نظام گردوں کی بیماریوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا،ہمیں کڈنی امراض کے حوالے سے سکریننگ پروگرام کی جانب جانا ہوگا،شوگر کے حوالے سے ہم دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں،ان شوگر کے چالیس فیصد مریضوں کو گردوں کی بیماریاں ہوجانی ہیں،اگلے آٹھ سے دس سال میں …
ہمیں کڈنی امراض کے حوالے سے سکریننگ پروگرام کی جانب جانا ہوگا،پروفیسر ڈاکٹر زاہد نبی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):صدر پاکستان سوسائٹی آف نیفرالوجی ،معروف ماہر امراض گردہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد نبی نے کہا ہےپاکستان کا معاشی نظام گردوں کی بیماریوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا،ہمیں کڈنی امراض کے حوالے سے سکریننگ پروگرام کی جانب جانا ہوگا،شوگر کے حوالے سے ہم دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں،ان شوگر کے چالیس فیصد مریضوں کو گردوں کی بیماریاں ہوجانی ہیں،اگلے آٹھ سے دس سال میں کڈنی بیماری کا بوجھ کافی زیادہ ہوجائے گا،ہم سب کو مل جل کر اس کے حوالے سے کام کرنا چاہیے ،ڈیزیز ڈونر پروگرام کی آگاہی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسے مریض جو کسی حادثے کی وجہ سے آئی سی یو میں ہوتے ہیں،ان کی برین ڈیتھ ہوچکی ہوتی ہے،انہیں اعضا عطیہ کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ کسی اور کی زندگی بچائی جاسکے۔
اسلام آباد میں پاکستان سوسائٹی آف نیفرالوجی کی تین روزہ عالمی کانفرنس کے موقع پر اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتےہوئے پروفیسر ڈاکٹر زاہد نبی نے کہاکہ ہر دو سال بعد ہم کانفرنس کراتے ہیں جس میں ملک بھر سے نوجوان نیفرالوجسٹ شرکت کرتے ہیں جس میں تحقیقی مقالے پیش کیے جاتے ہیں،اس بار اس کانفرنس کو انٹر نیشنل سطح پر منعقد کیا گیا جس میں ،امریکا،برطانیہ،فرانس،اٹلی،سعودی عرب،کینیا،بنگلہ دیش سے پندرہ فارن سپیکرز نے شرکت کی،اس کانفرنس کا مقصدگردوں کی بیماریوں کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کرنا تھا،انٹرنیشنل اور لوکل سپیکرز کا تعارف ہواور نوجوان نیفرالوجسٹ سینئرز سے سیکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں ڈاکٹر مقعدی یعقوب،راجنیش ملہوترا جیسے عالمی سطح کے معروف نیفرالوجسٹ کی شرکت حوصلہ افزا تھی نوجوان ڈاکٹرز کو ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ڈاکٹر زاہد نبی نے عوام کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ شوگر،بلڈ پریشر یا درد کش ادویات کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں گردوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،اس حوالے سے یورینری ریٹنیشن ٹیسٹ لازمی کروائیں،گردوں کا ٹیسٹ اور الٹراساونڈ سے گردوں کی حالت کا معلوم ہوجاتا ہے۔ انہوں نےکہا ایسی کانفرنسز کا مقصد گردوں کی بیماریوں سے متعلق آگاہی ہے ،یہاں سے سیکھ کر جانیوالے ینگ نیفرالوجسٹ اپنے علاقوں میں گردوں کے مریضوں کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرسکیں گے۔







