اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کی جانب سے بیمہ کلیم کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ اور فیڈرل انشورنس محتسب کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت مرحوم پالیسی ہولڈر کے نامزد فرد کو 38 لاکھ 50 ہزار روپے کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس …
وفاقی آئینی عدالت کا 38 لاکھ روپے کا کلیم ادا کرنے کا حکم برقرار ، بیمہ عدم ادائیگی کی اپیل خارج

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کی جانب سے بیمہ کلیم کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ اور فیڈرل انشورنس محتسب کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت مرحوم پالیسی ہولڈر کے نامزد فرد کو 38 لاکھ 50 ہزار روپے کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایف سی پی ایل اے نمبر 275 آف 2025 کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا آئینی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرحوم محمد وقاص انجم نے 5 مارچ 2019 کو میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ سے تکافل پلان حاصل کیا تھا جس کے تحت 38 لاکھ 50 ہزار روپے کا ڈیتھ کور فراہم کیا گیا تاہم پالیسی کے اجرا ء کے چند دن بعد 8 مئی 2019 کو ان کا انتقال ہو گیا۔
مرحوم نے اپنی بہن اریشا کنول کو بطور نامزد فرد درج کر رکھا تھا جنہوں نے کلیم دائر کیا۔میسرز پاک قطر فیملی تکافل نے کلیم مختلف بنیادوں پر مسترد کیا جن میں نامزد فرد کے خاندانی رشتے پر اعتراض، طبی ریکارڈ کی عدم فراہمی اور مرحوم کے مبینہ طور پر منشیات کے عادی ہونے کا الزام شامل تھا تاہم فیڈرل انشورنس محتسب نے 6 جون 2022 کو شکایت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ کلیم مسترد کرنے کے لئے کوئی ٹھوس یا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔فیڈرل انشورنس محتسب نے نہ صرف کلیم کی ادائیگی کا حکم دیا بلکہ غیر ضروری تاخیر پر میسرز پاک قطر فیملی تکافل کو ہرجانہ ادا کرنے کا بھی پابند قرار دیا، جبکہ معاملہ ضابطہ جاتی کارروائی کے لئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی۔
بعد ازاں میسرز پاک قطر فیملی تکافل کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست اور صدارتی نمائندگی بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر رِٹ درخواست میں عدالت نے نامزد فرد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے تکافل کمپنی کی درخواست خارج کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مرحوم کی وفات، پالیسی کا اجرا اور نامزد فرد کی حیثیت متنازع نہیں۔ عدالت کے مطابق محض تاخیر سے اطلاع یا بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر تکافل کلیم مسترد نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مرحوم کی صحت سے متعلق کسی قسم کی غلط بیانی بھی ثابت نہیں ہو سکی۔عدالت نے ان وجوہات کی بنا پر اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ فیصلہ 26 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں سنایا گیا۔







