اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو)نے ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافت کے فروغ اور تکنیکی استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد العنانی اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات …
پاکستان اور یونیسکو کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی تبادلے کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو)نے ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافت کے فروغ اور تکنیکی استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد العنانی اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں کیا گیا۔ملاقات میں پاکستان کی ثقافتی پالیسیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور ملک کے بھرپور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیر کے روز وزارت قومی ورثہ و ثقافت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد العنانی نے پاکستان کی جانب سے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی کارکردگی کو قابل تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کو زیادہ سے زیادہ عوام تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف روایات کے باوجود معاشرے مشترکہ ثقافتی اقدار کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں اور ثقافت ایک مضبوط سماجی پیغام کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے یونیسکو کی مسلسل حمایت کا یقین بھی دلایا۔ڈاکٹر خالد العنانی نے بتایا کہ یونیسکو ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عمل کو آسان بنانے اور تاریخی مقامات تک رسائی بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ورثہ سیاحت کے فروغ، تکنیکی عملے کے لیے استعداد کار بڑھانے کی ورکشاپس کے انعقاد اور یادگاروں کی بحالی و روایتی فنون کی دستاویز سازی جیسے منصوبوں میں یونیسکو کی تکنیکی معاونت کی تجویز دی۔
انہوں نے لوک ورثہ کے کردار کو مستقبل میں غیر محسوس ثقافتی ورثہ (آئی سی ایچ) کے لیے قومی تکنیکی مرکز کے طور پر مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر نے ڈاکٹر خالد العنانی کا خیر مقدم کرتے ہوئے یونیسکو کے مشن کے ساتھ پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 1963 سے پاکستان اور یونیسکو کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے موئن جو داڑو کے تحفظ کے لیے ’’سیو موئن جو داڑو‘‘ مہم میں یونیسکو کے کلیدی کردار کا خصوصی ذکر کیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے متنوع تاریخی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ٹیکسلا، تخت بھائی، مکلی (ٹھٹھہ) ، لاہور قلعہ و شالامار باغ، روہتاس قلعہ اور موئن جو داڑو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بادشاہی مسجد، ہرن مینار، ہڑپہ اور مہرگڑھ سمیت 25 مقامات کو مستقبل میں عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے عارضی فہرست میں رکھا ہے جبکہ محکمہ آثار قدیمہ مزید مقامات بھی تجویز کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قدیم تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے مہرگڑھ کے نو ہزار سال قدیم آثار کی اہمیت اجاگر کی اور کراچی میں ورثہ اور میوزیم ڈویلپمنٹ کے ادارے کے قیام کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا،
جسے یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل نے علاقائی سطح پر مثبت اقدام قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے سماجی ہم آہنگی اور معاشرتی استحکام میں غیر محسوس ثقافتی ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ روایتی لوک موسیقی ’’بورندو‘‘ کو یونیسکو کی فوری تحفظ کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔
سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے تاریخی یادگاروں کی بحالی اور روایتی فنون کی دستاویز سازی کے لیے یونیسکو سے تکنیکی معاونت طلب کی۔ انہوں نے مشترکہ تحقیقی مواقع اور ثقافتی ورثے کے منصوبوں کے لیے فنڈنگ کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے پاکستان کی ثقافتی پالیسیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے یونیسکو کی رہنمائی طلب کرتے ہوئے مشترکہ منصوبوں کے لیے ٹائم لائنز اور باقاعدہ جائزہ اجلاسوں کی بھی تجویز پیش کی۔
سیکریٹری نے زیر غور غیر محسوس ثقافتی ورثہ اور عالمی ورثہ کے متعدد منصوبوں کے لیے یونیسکو کی حمایت کی درخواست بھی کی۔ اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ یونیسکو اسلام آباد دفتر ثقافتی ورثے سے متعلق امور میں پاکستان نیشنل کمیشن برائے یونیسکو اور محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے ساتھ رابطہ کاری کرے، جو 1972ء یونیسکو کنونشن کے تحت ریاستی فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔
اجلاس میں یونیسکو ہیڈکوارٹر کے چیف آف سیکشن پیکس عمر منیب، یونیسکو کے کنٹری نمائندہ فواد پاشائیف، وزیر مملکت حذیفہ رحمان، پارلیمانی سیکریٹری فرح ناز اکبر اور وزارت کے ماتحت ثقافتی اداروں کے سربراہان بھی شریک تھے۔
ملاقات میں پاکستان اور یونیسکو نے ثقافتی ورثے کے تحفظ، غیر محسوس ثقافتی ورثے کے فروغ، تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے اور ثقافتی سیاحت و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کیا جا سکے۔







