آبگاہیں سمندری و آبی حیات کے تحفظ وتنوع ، ماہی گیری و آبی زراعت سے وابستہ افراد کے طویل المدتی معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہیں، وفاقی وزیر بحری امور کا آبگاہوں کے عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ آبگاہیں سمندری و آبی حیات کے تحفظ اور تنوع اور ماہی گیری و آبی زراعت سے وابستہ افراد کے طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، سمندری حیات کے تحفظ اور پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ میں آبگاہوں ( ویٹ لینڈز) کا کلیدی کردارہے۔ پیر کو ورلڈ ویٹ لینڈز ڈے کے …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ آبگاہیں سمندری و آبی حیات کے تحفظ اور تنوع اور ماہی گیری و آبی زراعت سے وابستہ افراد کے طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، سمندری حیات کے تحفظ اور پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ میں آبگاہوں ( ویٹ لینڈز) کا کلیدی کردارہے۔

پیر کو ورلڈ ویٹ لینڈز ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ دلدلی علاقے جن میں مینگرووز، دہانے، جزر و مدی میدان اور ساحلی جھیلیں شامل ہیں،موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے سیلاب، ساحلی کٹائو اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 240 سے زائد اہم ویٹ لینڈز موجود ہیں جبکہ بعض مطالعات کے مطابق ان کی تعداد 225 ہے جو مجموعی طور پر ملک کے کل رقبے کے تقریباً 10 فیصد حصے پر محیط ہیں۔

وفاقی وزیر بحری نے کہا کہ یہ ماحولیاتی نظام قدرتی حفاظتی حصار کے طور پر کام کرتے ہیں جو ساحلی آبادیوں، بندرگاہوں اور بنیادی ڈھانچے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ سمندری ماحول میں پانی کے معیار اور ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

انہوں نے بالخصوص ساحلی آبی گزرگاہوں خاص طور پر انڈس ڈیلٹا کے مینگرووز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مچھلیوں اور دیگر سمندری حیات کے لیے افزائش اور پرورش کے قدرتی مسکن ہیں جو براہ راست ماہی گیری اور غذائی تحفظ کو سہارا دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زرخیز آبی علاقے سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماہی گیری و آبی زراعت سے وابستہ افراد کے طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

وفاقی وزیر نے 2026ء کے موضوع کے تحت روایتی اور مقامی علم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی برادریاں تاریخی طور پر پائیدار ماہی گیری اور مینگرووز کے تحفظ کے طریقے اپناتی رہی ہیں جو ماحولیاتی نظام کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے اس روایتی دانش کو جدید ماحولیاتی پالیسیوں میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔جنید انوارچوہدری نے کہا کہ دلدلی علاقے بلیو اکانومی کی بنیاد ہیں کیونکہ یہ ماہی گیری، بحری تجارت، ماحولیاتی سیاحت اور موسمیاتی استحکام کو ممکن بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقے قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرتے اور قدرتی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں جو کم لاگت میں معاشی ترقی اورماحولیاتی تحفظ کا ذریعہ بنتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے دلدلی علاقوں کے تحفظ کے لیے عوامی آگاہی میں اضافے، موثر حفاظتی اقدامات اور مقامی برادریوں کی شمولیت پر زور دیا تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند سمندری ماحول اور مضبوط قومی معیشت کو یقینی بنایا جا سکے۔