اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا 14واں اجلاس پیر کو چیئرمین چوہدری بشیر احمد ورک کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا اور کمیٹی نے صوفیہ سعید شاہ کی بہن کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس (20 اگست 2025) کی توثیق کی گئی جبکہ ایجنڈا آئٹم نمبر 2 …
قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ،متعدد بلز پر غور ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا 14واں اجلاس پیر کو چیئرمین چوہدری بشیر احمد ورک کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا اور کمیٹی نے صوفیہ سعید شاہ کی بہن کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس (20 اگست 2025) کی توثیق کی گئی جبکہ ایجنڈا آئٹم نمبر 2 کو ملتوی کر دیا گیا۔کمیٹی نے متبادل تنازعات کے حل (ترمیمی) بل 2026 پر غور کیا جس میں اراکین نے زور دیا کہ فریقین کے لیے ثالثی (Arbitration) لازمی نہیں ہونی چاہیے۔
کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت کو منسلک شیڈول میں ترمیم کی اجازت دینے سے پارلیمنٹ کا مقننہ اختیار متاثر ہو سکتا ہے۔ وزارت نے وضاحت کی کہ یہ قانونی تفویض اختیار کے مترادف ہے، نہ کہ پارلیمنٹ کے اختیار کی تنسیخ۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں تفصیلی نوٹ پیش کیا جائے جس کے بعد بل پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔بعد ازاں کمیٹی نے دی کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی) بل 2024 (سیکشن 54-A) پر بات چیت کی جسے صوفیہ سعید شاہ نے پیش کیا۔
وزارت نے بتایا کہ موجودہ قانون میں آرڈر XXI موجود ہے جو عدالتوں کے فیصلوں کے نفاذ کو منظم کرتا ہے لہٰذا موجودہ مسودہ ترمیم قابل حمایت نہیں تاہم کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ محرک کے ساتھ مشاورت کے بعد ترمیم شدہ مسودہ پیش کرے۔کمیٹی نے قانون شہادت (ترمیمی) بل 2025 (شازیہ ماری) پر بھی غور کیا۔ محرک نے موجودہ قانون، مجوزہ ترامیم اور کمیٹی و وزارت کی پچھلی سفارشات کی روشنی میں ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔
وزارت نے اصولی طور پر اس ترمیم کی حمایت کی لیکن آخری بار مزید بہتری کے لیے بل کو ملتوی کرنے کی درخواست کی جسے کمیٹی نے منظور کرتے ہوئے آئندہ اجلاس تک غور ملتوی کر دیا۔اسی طرح، پبلک انٹرسٹ ڈسکلوژرز (ترمیمی) بل 2025 (ڈاکٹر شرمیلا فاروقی ہشام) پر بھی بات ہوئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسی نوعیت کا ایک اور بل پارلیمنٹ میں زیر غور ہے جس میں محرک کے مقصد کے مطابق ایک آزاد کمیشن کے قیام کی تجویز شامل ہے۔
کمیٹی نے محرک کو موقع دینے کی ہدایت کی کہ وہ بل کی منظوری کے دوران ہائوس میں ترامیم پیش کر سکیں تاہم کمیٹی نے سفارش کی کہ یہ بل مزید قانون سازی کے لیے ضروری نہیں اور اسے منظور نہ کیا جائے۔کمیٹی نے آئین میں ترمیمی بل 2026 (آرٹیکل 24A اور آرٹیکل 51 و 106) پر غور نہیں کیا کیونکہ محرک اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ ان بلز پر آئندہ اجلاس میں دوبارہ غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں اراکین زہرہ ودود فاطمی، سائرہ طاہرہ، مہ جبین خان عباسی، سید علی قاسم گیلانی، سید ابرار علی شاہ، سید نوید قمر، سید حفیظ الدین، حسن صابر (آن لائن)، عالیہ کامران، صوفیہ سعید شاہ، شازیہ مری، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف اور متعلقہ حکام و عملہ نے شرکت کی۔







